تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 176 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 176

کام میں لگادی جاتی ہے۔ہمارے حضرت نے تحریر فرمایا ہے :- (الف) '' جو شخص بڑا صدق لے کر اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑتا ہے وہ اُس کیلئے بڑے بڑے کام دکھاتا ہے۔یہاں تک کہ اپنے زمین و آسمان کو اس کے لئے غلاموں کی طرح کر دیتا ہے اور اس کے منشاء کے مطابق دنیا میں تصرف کرتا ہے۔“ (تتمہ چشمہ معرفت) (ب) اسی معرفتِ تامہ کے درجہ پر پہنچ کر اسلام صرف لفظی اسلام نہیں رہتا بلکہ وہ تمام حقیقت اس کی جو ہم بیان کر چکے ہیں حاصل ہو جاتی ہے۔اور انسانی روح نہایت انکسار سے حضرت احدیت میں اپنا سر رکھ دیتی ہے۔تب دونوں طرف سے یہ آواز آتی ہے کہ جو میر اسو تیرا ہے اور خدا تعالیٰ بھی بولتا ہے اور بشارت دیتا ہے کہ اے میرے بندے جو کچھ زمین و آسمان وغیرہ میرے ساتھ ہے وہ سب تیرے ساتھ ہے۔اسی مرتبہ کی طرف اشارہ اس آیت میں ہے قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ اسْتَرَفُوْا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا “ 66 ( آئینہ کمالات اسلام صفحه ۱۸۹) حضرت سید عبد القادر جیلانی فرماتے ہیں :- فَحِيْنَئِذٍ تَكُونُ وَارِثَ كُلِّ رَسُوْلٍ وَنَبِيَّ وَصِدِيْقٍ بِكَ تُخْتَم الْوَلَايَةُ وَإِلَيْكَ تَصْدَرُ الْاَبْدَالُ وَبِكَ تَكْشِفُ الْكُرُوبُ وَبِكَ تُسْقَى الْغُيُوثُ وَبِكَ تَنْبُتُ الزُّرُوءُ وَبِكَ تُدْفَةُ الْبَلَايَا وَالْمِحَنُ عَنِ الْخَاصِ وَالْعَامِ وَأَهْلِ الْفُغُورِ وَالرَّاعِى وَالرَّعَايَا وَالْأُمَّةِ وَسَائِرِ الْبَرَايَا فَتَكُونُ شَحْنَةَ الْبِلَادِ وَالْعِبَادِ - “ 66 ترجمہ - اے سالک! (مرتبۂ فرد الفرد میں ) تو ہر رسول، نبی اور صدیق کا وارث بن جائے گا۔تو خاتم الاولیاء ہوگا اور ابدال تیرے پاس آئیں گے۔مشکلات ا ختم نبوت کے معنوں کے حل کرنے کے لئے یہ ایک اچھی مثال ہے۔(ابوالعطاء) (176)