تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 177 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 177

تیرے ذریعہ سے دُور ہوں گی ، تیرے ذریعہ سے بارشیں برسیں گی اور کھیتیاں اُگیں گی اور مصائب و تکالیف ہر کس خاص و عام سرحدی ، رعیت ، بادشاہ ، امام، اُمت اور سب مخلوق کی تیرے ذریعہ سے دُور ہونگی اور تو بندگان اور شہروں کا چوکیدار بن جائے گا۔(فتوح الغیب مقالہ (۴) " پھر اولیاء خاص کی تعریف میں فرمایا :- ” بِهِمْ ثَبَاتُ الْأَرْضِ وَالسَّمَاءِ وَقَرَارُ الْمَوْتَى وَالْأَحْيَاءِ إِذْ جَعَلَهُمْ مَلِيْكُهُمْ أَوْتَاداً لِلْأَرْضِ الَّتِي دَحَى فَكُلُّ كَالْجَبَلِ الَّذِي رَسَا “ ترجمہ۔انہی لوگوں کے ساتھ آسمان وزمین کا ثبات اور مردوں او زندوں کا قرار ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لئے ستون بنایا ہے۔اور وہ زبردست گڑے ہوئے پہاڑ کی طرح ہوتے ہیں۔“ (فتوح الغیب مقالہ ۱۴) بہت ممکن ہے کہ متعصب دشمن اس حقیقت کو ٹھکرا دے اس لئے میں کہتا ہوں کہ آسمان و زمین کی معیت سے اگر قدرت و حکم میں شراکت لازم آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی معیت سے تو الوہیت سے بھی چار قدم آگے ہی جانا مانو گے۔دیکھو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَمَا كُنتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ( الحديد ع ا ) إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا (النحل ركوع (١٢ كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ (الشعراء رکوع ۴ ) إِنَّ اللهَ مَعَنَا ( تو به رکوع ۶ ) ان آیات میں بتلایا ہے کہ ہر انسان کو اللہ کی معیت حاصل ہے۔متقی لوگوں کے ساتھ اللہ ہے۔موسیٰ نے کہا کہ میرا رب میرے ساتھ ہے۔رسول اکرم نے فرمایا ضرور اللہ تعالی ہمارے ساتھ ہے۔" اب کیا ان تمام مقامات پر اللہ کی معیت سے شرک لازم آتا ہے؟ ہرگز نہیں۔اگر کوئی ایسا خیال کرتا ہے تو غلطی کرتا ہے۔پس جب اللہ کی معیت قدرت الہیہ میں شریک نہیں بناتی تو آسمان و زمین کی معیت کیسے بنا سکتی ہے ؟ ہاں یہ بھی خیال رہے کہ لفظ کمآ مشابہت تامہ کا مقتضی نہیں بلکہ ایک مقصد میں یگانگت کے لئے بھی لفظ کیا آجاتا ہے۔آیت كَمَا أَرْسَلْنَا إلى فِرْعَوْنَ رَسُولًا ( مزمل رکوع ۱ ) اس کی شاہد ہے۔بہر حال یہ الہام کسی صورت میں بھی شریعت اسلامی کے خلاف نہیں۔(177)