تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 144 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 144

” موت تیرہ ماہ حال کو الہام ۵ شعبان ۱۳۲۴ھ ) ایک دم میں دم رخصت ھ) ہوا۔پیٹ پھٹ گیا۔اور پھر اس کے بعد لکھا ہے کہ ”خبر نہیں کس کا ؟“ (عشره صفحه ۴۲) الجواب معترض پٹیالوی کہتا ہے کہ خبرنہیں کہ یہ کس کے متعلق ہے۔حالانکہ آج سے قریبا ۲۴ سال پیشتر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرما چکے ہیں کہ :- مجھ کو ۳۰ / جولائی ۱۹۰۶ ء میں اور بعد اس کے اور کئی تاریخوں میں وحی الہی کے ذریعہ سے بتلایا گیا کہ ایک شخص اس جماعت میں سے ایک دم میں دنیا سے رخصت ہو جائے گا اور پیٹ پھٹ جائے گا اور شعبان کے مہینہ میں وہ فوت ہوگا۔چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق شعبان ۱۳۲۴ھ میں میاں صاحب نور مهاجر جو صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف صاحب کی جماعت میں سے تھا یکدفعہ ایک دم میں پیٹ پھٹنے کے ساتھ مر گیا۔(تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۴) جب گھل گئی سچائی پھر اُس کو مان لینا نیکوں کی ہے یہ خصلت راہ حیا یہی ہے چھٹا اعتراض اور اس کا جواب۔”غَتُمْ- غَثْم۔غَثْہ درج کر کے معترض صاحب 66 -: لکھتے ہیں ”مطلب ندارد۔“ حالانکہ اس کا مطلب اس الہام کے ساتھ ہی مکمل عبارت میں درج ہے چنانچہ لکھا ہے : غَتُمْ غَثْمْ - غَتُمْ لَهُ - دَفَعَ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ دَفْعَةٌ ( ترجمہ ) دیا گیا اس کو مال اس کا اچانک۔‘ (البشری جلد ۲ صفحہ ۵۰) اور لغت میں بھی لکھا ہے :- غَثَمَ لَهُ - دَفَعَ لَهُ دَفْعَةً جَيْدَةً مِنَ الْمَالِ (المنجد) پس اس الہام کے بھی معنی اور مطلب صاف موجود ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس کے متعلق بصیغہ غائب ذکر فرمایا ہے۔آٹھواں اعتراض۔الہام مضر صحت کے متعلق لکھا ہے :- (144)