تفہیماتِ ربانیّہ — Page 95
قرآنی عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي (سورہ یوسف ) بھی اسی طرف اشارہ کر رہی ہے حضرت مرزا صاحب کے الہامات کو معترض غلط قرار دیتے ہوئے بھی اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ : ”مرزا صاحب کو اپنے گل مکاشفات ، الہامات اور پیشگوئیوں کے سچا ہونے پر بڑا ناز اور دعوی تھا۔“ (عشره صفحه ۳۵) اس کے بعد حضرت اقدس کے ان الفاظ کو نقل کرتا ہے :- وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا اقطعی اور یقینی ہے۔اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور اس کی روشنی ہے ایسا ہی میں اس کلام میں شک نہیں کر سکتا جو خدا کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۳۶ بحوالہ تجلیات الہیہ ) اس ایک بات سے ہی عظمند انسان حضرت کی سچائی کو پرکھ سکتے ہیں۔بھلا یہ غیر متزلزل یقین اور یہ غیر معمولی استحکام شیطان اور شیطانی کلام کو ہو سکتا ہے؟ ہر گز نہیں! ان فی ذالك لعبرة لا ولى الالباب حضرت مسیح موعود اور ابن صیاد نادان معترض حضرت مسیح محمدی صلواۃ اللہ علیہ وسلامہ اور ابن صیاد کو باہم مماثل قرار دیتا ہے اور پوچھتا ہے کہ جب مرزا صاحب کو جماعت احمد یہ نبی ورسول مانتی ہے تو ابن صیاد کو کیوں رسول نہیں مانتی ؟ اس دشمن حق کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ابن صیاد نے کب سچ مچ دعوی رسالت کیا اور کب اس نے اہلِ دنیا کو اپنے ماننے کی دعوت دی۔اور پھر کن معیاروں کی رُو سے اُس کی سچائی ظاہر ہوئی بلکہ صحیح روایات کی بناء پر تو اُس نے آخر کار اس ” گنگناہٹ“ سے بھی تو بہ کر لی تھی جس کی وجہ سے پٹیالوی معترض اسے مدعی وجی“ قرار دیتا ہے۔اگر منشی صاحب کے نزدیک اس کو وحی کا دعوی تھا تو اس کی وحی تو پیش کرتے۔اور پھر صرف دعوئی تو کوئی چیز ہی نہیں بے شک بیسیوں اُٹھے جنہوں نے آفتاب رسالت کی کرنوں کے مقابل ہو کر مختلف دعاوی کئے مگر ان کی تباہ حالی، ناکامی اور نامرادی کی موت نے اُن کو بے خس کم جہاں پاک کا ہی مصداق بنایا محض رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چڑانے یا آپ کی نقل اُتارنے کے لئے وقتی طور پر آتَشْهَدُ إِنِّي رسول اللہ کہنا دعوئی رسالت نہیں کہلاتا۔(مؤلف) 95