تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 96 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 96

اور آسمان نے ان کی بربادی سے ان کی بطالت پر شہادت دیدی۔کہاں وہ لوگ اور کہاں خدا کا وہ نبی، جس نے بے کسی اور بے بسی میں دعوی فرما یا، اپنے اور بیگانے اس کے دشمن ہو گئے۔سب نے اس کی تخریب، بربادی اور استیصال کے منصوبے سوچے اور امکان بھر کوششیں کیں مگر وہ سب ناکام رہے اور پیغمبر قادیان یکہ و تنہا ہو کر سب پر غالب آیا؟ وہ ایک تخم تھا جس سے نہایت عظیم الشان درخت بن گیا اور اس کی شاخیں اکناف عالم میں پھیل گئیں اور اخیر دنیا تک اس کے حاسدوں اور منکروں کے جلنے کا سامان بن گئیں۔ہے یا درکھو ے چه نسبت خاک را با عالم پاک پاک صادقاں را نور حق تابد مدام کا زباں مردند و شد ترکی تمام میں کہتا ہوں کہ اگر یہ حقیقت واقعیہ اور تاریخی صداقت نہ بھی ہوتی تو بھی ابن صیاد کی کذب بیانی کے لئے اس کا اپنا اقرار کہ : ” میرے پاس کچھ بچے اور کچھ جھوٹے خبر رساں آتے ہیں۔(عشرہ کاملہ صفحہ ۳۴) ہی کافی تھا۔اور یہ بات ہی حضرت مسیح موعود اور اس کا ذب میں بین فرق کر دیتی۔کیا تم نے ابھی نہیں پڑھا کہ خدا کا سچا موعود اپنے سب الہامات کو یقینی قطعی اور منجانب اللہ قرار دیتا ہے۔(عشرہ صفحہ ۳۶) بلکہ یقین کامل سے فرماتا ہے :۔مخالف لوگ عبث اپنے تئیں تباہ کر رہے ہیں۔میں وہ پودا نہیں ہوں کہ ان کے ہاتھ سے اُکھڑ سکوں۔اگر اُن کے پہلے اور اُن کے پیچھلے اور اُن کے زندے اور اُن کے مردے تمام جمع ہو جائیں اور میرے مارنے کے لئے دعائیں کریں ، تو میرا خدا ان تمام دعاؤں کو لعنت کی شکل پر ان کے منہ پر مارے گا۔(ضمیمہ اربعین نمبر ۴ صفحہ ۷) ابن صیاد کا اقراری شک و التباس ہی اس کے کاذب ہونے کی کافی دلیل ہے اسلئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فوراً فرمایا۔خَلَطَ عَلَيْكَ الأمر۔تجھ پر بات خلط ملط ہو گئی ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۳۵) گویا اس کی کذب بیانی کے ثابت کرنے کے لئے کسی دوسری دلیل کی ضرورت ہی نہیں۔مگر حضرت مسیح موعود کا اپنی وحی پر کامل یقین اور اپنے الہام پر قطعی 96