تفہیماتِ ربانیّہ — Page 94
کہ مجھے اور تمام عارفین کو معارف و اسرار کے باعث بہت تکالیف پہنچی ہیں اور لوگوں نے ہم کو زندیق قرار دے کر بے انتہاء اذیت دی ہے۔سچ ہے۔کس بچشم یار صدیقے نہ شد a تا چشم غیر زندیقے نہ شد رب السموات قرآن پاک میں فرماتا ہے فَانهُمْ لَا يُكَذِبُونَكَ وَلَكِنَّ الظَّلِمِينَ بِآيَاتِ اللهِ يَجْحَدُونَ ) (انعام رکوع (۴) یہ لوگ تیری ذات کی تکذیب نہیں کرتے بلکہ یہ زراہ ظلم خدا کی آیات اور تیرے الہامات کا انکار کرتے ہیں۔ہاں وہ اسی وجہ سے تو کہتے تھے انتِنَا بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَذَا أَوْبَدِلْهُ (یونس رکوع (۲) کہ ہم اس قرآن کو اور اس کے الہامات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ان کو بدل دو کیوں؟ کہتے ہیں وَقَالَ الْكَفِرُوْنَ هَذَا سَاحِرٌ كَذَّابٌ (ص رکوع ۱) کہ یہ تو سراسر جھوٹا ہے، افتراء پرداز ہے ہم اس کی اتباع کس طرح کر لیں۔دوسری جگہ کہتے ہیں وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِنْ رَّبِّهِ ( انعام رکوع ۴) اے کاش اس رسول ( صلے اللہ علیہ وسلم ) پر کوئی بھی سچا الہام ہو جاتا ، اس کی کوئی بات ہی پوری ہوجاتی۔قوم ثمود حضرت صالح کے متعلق کہتی ہے الْقِي الذِكرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِره ) رکوع ۲) کہ یہ تو بہت ہی جھوٹا اور مغرور ہے کیا خدا کا کلام اس پر ہی نازل ہونا تھا ؟ ہم اس بیان کو کہاں تک طول دیں، قرآن مجید اس مضمون سے بھرا پڑا ہے کہ دشمنانِ صداقت انبیاء کے جملہ الہامات کو کذب، افتراء اور سراسر غلط قرار دیتے رہے ہیں۔پس اگر آج حضرت جری اللہ فی حلل الانبیاء کے مخالف آپ کے الہامات کے متعلق ایسا نہیں تو جائے تعجب نہیں بلکہ ضرور تھا کہ ایسا ہوتا کیونکہ جس طرح یہ رسول فی حلل الانبیاء ہے اسی طرح اس کے دشمن بھی ” في حلل المكذ بين “ ہیں۔سچ ہے گذلِكَ قَالَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِثْلَ قَوْلِهِمْ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ - حضرت مرز اصاحب کا اپنے الہامات پر کامل یقین مفتری اور جعلساز اپنی بات پر کبھی یقین تام اور وثوق کامل کے ساتھ مستقل نہیں رہ سکتا، جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوا کرتے۔اسی لئے انبیاء کرام علیہم السلام کا غیر متزلزل یقین دانشمندوں کی نظر میں ان کی صداقت کا بہت بڑا نشان ہوتا ہے۔آیت 94