اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 32
تدريس نماز 32 گے۔بہت اچھی تربیت ہوگی۔رُكُوع سورہ فاتحہ اور دوسری آیات کے بعد اللہ اکبر کہہ کے جھکتے ہیں۔”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيم اول تو یہ کہ سُبحَانَ رَبِّيَ الْعَظِیمِ کیوں پڑھتے ہیں؟ سورۃ فاتحہ اور قرآن کریم اس سے پہلے کھڑے ہو کر پڑھتے ہو، اگر اس کا ترجمہ آتا ہو اس کا دل پر اثر ہو، پھر رکوع سچا ہوگا۔پہلے سُبحَانَكَ اللهُمَّ۔۔۔۔۔" کہتے ہیں۔یعنی اے اللہ تو ہر کمزوری سے پاک ہے اور جب تم کہتے ہو سُبْحَانَ رَبِّي۔۔۔تو اس کا مطلب ” جہانوں کا رب کمزوری سے پاک“ نہیں ہے میرا رب کمزوری سے پاک ہے۔پہلے تو کہا تھا سب جہانوں کا۔”سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِکَ و تَبَاركَ اسْمُكَ۔۔۔۔یہ سب غائبانہ باتیں ہیں۔مخاطب کر کے خدا کو کہتے ہیں ، مگر رب العلمین ، ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں آپ نے اس کو اپنایا ہے، ہم تیری عبادت کرتے ہیں،۔رب تو کسی کا بھی ہو ظیم ہے لیکن یہاں سُبحَانَ رَہی اس لئے کہتے ہیں کہ جو باتیں ہم نے اپنے رب کی سورہ فاتحہ اور تلاوت میں دیکھی ہیں اس کے بناء پر ہم گواہی دے سکتے ہیں کہ میرا رب پاک ہے۔اور جب آپ کہیں کہ ”میرا رب عظیم ہے تو اس کا کیا مطلب بنے گا ؟ جب میرا رب عظیم ہے تو مجھے بھی عظیم ہونا چاہئے۔جس عظیم کا میں بندہ یا بندی ہوں تو مجھے بھی ویسا بننا چاہئے۔عظیم کس کو کہتے ہیں؟ اعظم کس کو کہتے ہیں؟ کبھی غور کیا۔اعظم کہتے ہیں ،سب سے بڑا۔لیکن اللہ کے لئے اعظم کا لفظ نہیں آیا بلکہ عظیم کا لفظ آیا ہے۔عظیم اسے کہتے ہیں کہ جس کے بعد، جس کے اوپر، جس سے بڑا ہو ہی نہ سکے۔پہاڑوں کا ایک سلسلہ دیکھو، پہاڑوں کی چوٹیوں بنی ہوئی ہیں، ان پر غور کرو۔بعض اوقات انسان کہتے ہیں، بڑا عظیم سلسلہ ہے، دنیا بڑی عظیم ہے۔جب عظیم کہتے ہیں تو عظیم کے اوپر اعظم ہوتا ہی کوئی نہیں۔وہ اپنی ذات میں ہر طرف پھیلا ہوا ہے، اس نے ساری کائنات کو بھرا ہوا ہے۔یہ ساری سمتیں جو ہیں وہ ساری عظیم کے اندر آجاتی ہیں۔انسان ہو ، حکومت ہو ، ملک ہو، کہتے ہیں بڑا عظیم ہے۔اس کے