اردو کلاس میں تدریس نماز

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 33 of 46

اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 33

تدريس نماز 33۔بعد یہ خیال نہیں آسکتا کہ اس کے بعد بڑا کون ہے؟ جس کو آپ نے عظیم کہا، وہی سب سے بڑا بن جاتا ہے۔عظمت میں سارا پھیلاؤ زمانہ کا ہے۔اور اگر بلند کہنا ہو تو اس کے لئے اعلیٰ کہیں گے۔تو رکوع میں عظیم “ کہتے ہیں۔خدا کی صفات ایسی ہیں جنہوں نے سب چیزوں کو ڈھانپا ہوا ہے۔اس کی عظمت سے کوئی چیز خالی نہیں رہی۔وہ بہت بڑا ہے اور اس کا پھیلاؤ بہت ہے۔یعنی Space میں کوئی چیز بھی اس سے بڑھ کر نہیں۔اور جب اس کی بلندی کا ذکر کریں گے کہ اونچا ہے تو کیا کہیں گے؟ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلى سجدے میں جا کے اعلیٰ ہوتا ہے۔اب نماز کی یہ ترتیب دیکھیں کتنی پیاری ہے۔رکوع میں آپ جھک کے چاروں طرف پھیل جاتے ہیں اور اس وقت سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيم" کہتے ہیں۔اور جب سب سے نیچے گر جاتے ہیں، سر نیچے لگا دیا تو سُبْحَانَ رَبِّي الاغلی“ کہتے ہیں۔تو عظیم اور اعلیٰ کیسے موقع پر اللہ نے استعمال فرمایا ہے۔رکوع میں عظیم کہا کہ عظمتیں حاصل کرو۔اور سجدے میں اعلیٰ کہا، بلندی حاصل کرو۔پہلے ہر بات پوزیشن بدلنے کے لئے ، اللہ اکبر کہا کرتے تھے۔ہر رکعت میں آپ اللهُ اكبر کہتے ہیں۔اب جب کھڑے ہوتے ہیں رکوع سے تو امام کہتا ہے: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنُ حَمِدَہ اور مقتدی کہتے ہیں رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ۔اب رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ پڑھا، پھر کھڑے ہو کر امام سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حمدہ کہتا ہے۔اس کا مطلب ہے اللہ نے سُن لی اس کی جس نے اس کی حمد کی۔اب رکوع میں تو سُبحَانَ کہا ہے، رکوع میں حمد کوئی نہیں کی۔اصل میں عظیم اس کی حمد ہے۔اور سُبحانَ یہ بتا تا ہے کہ جو عیبوں سے پاک ہے حمد بھی رکھتا ہے۔تو کسی کی حمد کرنی ہوتو دو لفظوں میں اس کی ساری حمد ہو سکتی ہے۔یا عظیم کہیں گے یا اعلیٰ کہیں گے۔رکوع میں آپ نے عظیم والی حمد بیان کی ہے۔اب حمد اور سورہ فاتحہ کا سارا مضمون دماغ میں رہا اور سُبحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيم“ کہا تو اس وقت امام آپ کو خوشخبری دیتا ہے، سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اللہ نے سُن لی اس کی بات جس نے اس کی حمد کی۔اس پر آپ پھر اور حمد کرتے ہیں۔کھڑے ہو کر کہتے ہیں رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً كَثِيراً طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ۔کبھی یہ سوچا کہ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ مِیں رَبَّنَا کے بعد و، کیوں