اردو کلاس میں تدریس نماز

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 9 of 46

اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 9

تدريس نماز حیوانوں سے نکالنے کے لئے کائنات بنائی۔ہوشیار سے ہوشیار جانور بھی کائنات کو سمجھ نہیں سکتا تھا۔وہ یہ نہیں سمجھ سکتا تھا کہ رحمانیت کن جگہوں پر جلوہ دکھا رہی ہے۔انسان ہی ہے جس نے تمام جانوروں کے متعلق مضمون اکٹھے کر لئے ہیں۔مثلاً کوئی بندر شیر کے متعلق کچھ کہہ سکتا تھا کہ یہ رحمانیت کا چکر ہے؟ کوئی کو اکسی کتے کے متعلق سوچ سکتا ہے کہ یہ رحمانیت کا چکر ہے۔اپنی اپنی ذات کے متعلق پتہ ہے لیکن ساری کائنات کا نہیں پتہ۔انسان کو نکال لو تو اللہ کی رحمانیت ہر جانور کے اندر اتنی اتنی رہ جائے گی کہ کسی کو پتہ نہیں ہوگا کہ خدا نے کیا دیا ہے۔اس لئے اللہ نے انسان کو پیدا کرنا تھا۔اس لئے کہ رحمانیت کا یہ جلوہ تھا کہ انسان کو لازماً پیدا کرے کیوں کہ جتنے خزانے ہیں تیل وغیرہ کے، ڈائنا سورس، لکڑی، کوئلہ، ہیرے بن گئے وغیرہ وغیرہ۔کیا ان سے جانور فائدہ اٹھا سکتا تھا؟ چیزیں بنادیں اور کوئی فائدہ نہ اٹھائے۔مثلاً کیا کسی کتے کے بچے کو ہوائی جہاز چلاتے دیکھا ہے؟ جب خدا کی رحمانیت سے کسی نے فائدہ نہیں اٹھانا تھا تو رحمانیت کس کام کی جتنی چیزیں ہیں سب انسان کے اوپر اکٹھی ہو جاتی ہیں اور وہ ساری کائنات سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔جس پر خدا فرماتا ہے الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ - خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ - کوئی کتاب اپنے وجود کو رحمن کی طرف منسوب نہیں کرتی کہ رحمن نے بائبل اور گیتا اُتاری، کہیں نہیں ملے گا۔صرف قرآن کہتا ہے کہ الرَّحْمنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ ابعَلَّمَ القران روحانی کا ئنات بن گئی۔وہی رحمن جس نے کائنات کو پیدا کیا۔وہ رحمن جس نے روحانی کائنات کو پیدا کیا۔اب روحانی کائنات کو سمجھنے کے لئے انسان کو پیدا کرنا ضروری تھا۔ور نہ کوئی جانور تو قرآن کو سمجھ نہیں سکتا تھا۔اور پہلے انسان بھی نہیں سمجھ سکتے تھے اس لئے ان کی کتابوں میں کہیں دعویٰ نہیں کہ ان کو ہم نے گیتا دی۔کیوں کہ پورا جلوہ نہیں تھا۔اور قرآن کو سمجھ نہیں سکتے تھے۔اور یہ بھی نہیں کہا کہ قرآن ان کو دیا۔پہلے انسان عیسائی ، زرتشتی، یہودی، ان کو قرآن نہیں دیا، وہ سمجھ نہیں سکتے تھے۔الإِنسَانُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، انسان کامل، اس نے بعد میں آنا تھا ، جس نے قرآن کو سمجھنا تھا، اس کو قرآن ملنا تھا۔اب خَلَقَ الْإِنْسَانَ ﴾ کے دو معنی بن جاتے ہیں۔الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ - خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ﴾ اس نے انسان کو پیدا کیا، پھر اس کو بیان کا طریقہ سکھایا۔اب قرآن کے مضامین اس کی روشنی حاصل کرنا ، اس کے حوالہ سے دنیا