اردو کلاس میں تدریس نماز — Page 8
تدريس نماز : دیا۔بن مانگے دینے والا اور اتنا زیادہ دینے والا کہ اس سے زیادہ مانگا جا ہی نہیں سکتا، جو سنبھالا نہ جائے۔اب ایک دفعہ دے دیا تو پھر چھٹی تو نہیں ہوگئی اور اس سے تعلق کے لئے کوئی چیز ایسی چاہئے جن میں کچھ انسانی محنت بھی ہو اور بار بار اس کا فضل ہو۔رحیم رحیم خداوہ ہے جو رحیمیة کے فضل کو بار بارلاتا ہے۔بار بار جولا تا ہے اس میں کچھ محنت آپ کو ڈالنی پڑتی ہے۔کچھ محنت آپ ڈالیں، نتیجہ خدا تعالیٰ نکالے گا۔یہ رحمانیت اور رحیمیت کے جُڑے ہوئے سر بنتے ہیں۔اب سورۃ فاتحہ شروع ہوگئی۔سورہ فاتحہ میں بھی ہمیں رب ملتا ہے، رحمان ملتا ہے، رحیم ملتا ہے۔اس رحمن کو سورۃ فاتحہ میں پھر کیوں بیان کیا ؟ سوال ہے؟ (اس میں روحانی تحائف کا ذکر ہے، ربوبیت کا بھی ذکر ہے )۔رحمن کی ایک تعریف کا ئنات کو پیدا کیا ، ضرورتیں پیدا کیں۔لیکن قرآن مجید مجیب کتاب ہے، کچھ بھی باقی نہیں چھوڑا، ہر چیز اس کے اندر موجود ہوگی۔اسلئے اس کے متعلق بیان ہے مَالِهذَا الْكِتَبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَّلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْضَهَا ﴾ لوگ کہیں گے قیامت کے دن، عجیب کتاب ہے، چھوٹی اور بڑی چیز نہیں چھوڑی۔اب رحمان کے متعلق قرآن کریم میں بیان ہے۔دنیا کے کسی کتاب میں نہیں جو قرآن کریم میں ہے۔الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ - خَلَقَ الْإِنْسَانَ عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ﴾ الرحمن میں صرف ماڈی کائنات پیدا نہیں کی۔رحمان نے اس کائنات کو سمجھنے کے لئے انسان کو پیدا کر دیا۔الرَّحْمَنُ۔۔۔۔۔خَلَقَ الْإِنْسَانَ دنیا کا تمام انسان اگر تخلیق کی بات کرتا ہے تو خالق کی کیا صفت بیان کرتا ہے۔دنیا کی کسی کتاب میں رحمن کو خلق سے منسوب نہیں کیا ، صرف قرآن ہے جو بات رحمن کی کرتا ہے اور ساتھ انسان کی پیدائش کی بھی، اس میں کیا حکمت ہے؟ دنیا میں جتنی بھی مذہبی کتابیں ہیں کسی میں بھی نہیں ہے کہ رحمن نے پیدا کیا۔وہ کہیں گے کہ خالق نے پیدا کیا ہے، یا اللہ نے پیدا کیا۔ایک قرآن ہے جو سب سے ہٹ کر بات کرتا ہے جو کہتا ہے الرَّحْمَنُ۔۔۔۔۔خَلَقَ الْإِنْسَانَ ﴾ اس میں کیا حکمت ہے؟ پہلی بات یہ کہ رحمانیت کے نتیجہ میں جو کائنات پیدا کی اس کا اعلیٰ مقصد یہ تھا کہ انسان کو پیدا کیا جائے۔رحمن خدا اگر انسان کو پیدا نہ کرتا تو کائنات کا کوئی بھی فائدہ نہ رہتا۔انسانوں کو