تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 7 of 108

تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 7

تذكرة الشهادتين اردو ترجمه فلا تتـمـنـوه وأنتم تقومون خارج تم دروازے سے باہر کھڑے ہو کر اُس کی تمنا نہ کرو یہ الباب، ولا يُعطى هذا العلم إلا علم اس کو دیا جاتا ہے جورب الأرباب کے حضور پیش لمن دخل حضرة ربّ الأرباب ہوتا ہے۔نیز یہ یقین تجربوں سے بھی حاصل کیا جاتا ثم يُؤخذ هذا اليقين عن التجاریب ہے۔اور تجربہ وہ شے ہے کہ جس سے لوگوں پر والتجربة شيء يفتح على الناس عجائبات کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور وہ جو شخص باب الأعاجيب، والذي لا يقتحم سلوک کے بیان میں نہیں گھستا اور ملک الملوک خدا تنوفة السلوك، ولا يجوب کے دیدار کے لئے غریب الوطنی کے صحرا کو عبور مــوامـى الـغـربـة لرؤية ملك نہیں کرتا تو پھر ایسے شخص پر عدم علم اور عدم تجر بہ کے الملوك، فكيف تكشف عليه با وجود اسرار خداوندی کیسے منکشف ہوں۔مگر ہاں وہ أسرار الحضرة ، مع عدم العلم جو عارفوں کی راہ پر چلا۔وہ ربّ العالمین کے مستحسن وعدم التجربة؟ وأما من سلك نادر کلام سے بالضرور حصہ پائے گا۔سب سے مسلك العارفين، فسوف برای حسین مشاہدہ جو ایک سالک کرتا ہے وہ قبولیت دعا (۸۲) كل أطروفة من ربّ العالمين۔و ہے۔پس پاک ہے وہ جو اولیاء کی دعائیں قبول مِن أحسن ما يُلمح السالك هو کرتا ہے اور ان سے ایسے ہمکلام ہوتا ہے۔جس قبول الدعاء ، فسبحان الذی طرح تم ایک دوسرے سے کلام کرتے ہو بلکہ اُس کا يُجيب دعوات الأولياء ، وه كلام قوت روحانی کی وجہ سے تمہارے کلام سے ويكلمهم ككلام بعضکم بعضا بل کہیں بڑھ کر پاک اور صاف ہوتا ہے اور وہ انہیں أصفى منه بالقوة الروحانية، اپنے تابناک لذیذ کلام کے ذریعہ اپنی طرف کھینچتا ويجذبهم إلى نفسه بالكلمات ہے جس کے نتیجہ میں وہ (اولیاء اللہ ) اپنے تمام اللذيذة البهية، فيرتحلون عن اہل و عیال اور مال ومتاع کو خیر باد کہتے ہوئے عرسهم وغرسهم إلى ربهم الوحيد، اپنے خدائے وحید کی طرف کوچ کرتے ہیں،۔