تذکرة الشہادتین مع علامات المقربین — Page 98
علامات المقربين ۹۸ اردو ترجمه وإن الله بعثني على رأس هذه یقیناً اللہ نے مجھے اس صدی کے سر پر مبعوث فرمایا المائة، بما رأى الإسلام فی کیونکہ اس نے اسلام کو کمزوری کے گڑھے میں پڑے وهاد الغربة، ورآه كارض ہوئے دیکھا اور اسے ایک نکمی سیاہ زمین یا گلے سڑے حشاة سوداء أو كحشي مما سبزه یا بد بودار گوشت کی طرح پایا جو قریب تھا کہ ایسے ينتون أو كلحم نتن و كاد أن درخت کی طرح ہو کہ جو بالکل گل سڑ کر نہایت متعفن ہو يكون كَنَيتُون۔ورأى النصاری چکا ہو۔اور اس نے نصاری کو دیکھا کہ وہ اہل حق کو گمراہ کر أنهم يُضلون أهل الحق رہے ہیں اور عیسائی بنا رہے ہیں اور ہمارے نبی (ع) وينصرون، ويسبون نبينا ظلما و کو ظلم اور جھوٹ کی راہ سے گالیاں دیتے ہیں اور باز نہیں ۱۵ زورا ولا ينتهون و رأی العلماء آتے۔اور اس نے علماء کو دیکھا کہ ان میں لاجواب ما بقيت فيهم قوة الإفحام ولا کرنے کی طاقت باقی نہیں رہی اور نہ فصاحت کلام اور فصاحة الكلام ولا يحتكأ نطقهم ان كى بات کسی دل میں نہیں اترتی کیونکہ وہ اللہ کی روح في نفس بما لا ينطقون بروح من سے نہیں بولتے اور نہ ہی وہ فصیح الکلام ہیں بلکہ ان میں الله ولا هم يُفصحون، بل يوجد شیخ پایا جاتا ہے اور وہ غیر واضح کلام کرتے ہیں اس کی فيهم تكنّع ويفطفطون ذالك وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کی نافرمانی اس قول سے بما عصوا ربهم بقول لا يُقارنه کرتے ہیں جس کی فعل سے ہم آہنگی نہیں ہوتی نیز اس فعل وبما كانوا يراء ون، ولما لئے کہ وہ دکھاوا کرتے ہیں اور جب میں اپنے رب کی جنتهم من ربي أعرضوا وقالوا طرف سے ان کے پاس آیا تھا تو انہوں نے اعراض کیا كاذب أو مجنون، وما جنتهم إلا اور کہا کہ یہ تو جھوٹا یا مجنون ہے اور جب میں ان کی وهم يسهون في الصالحات طرف آیا تو ان کی حالت یہ تھی کہ وہ نیکیوں کو بھول چکے وعن الصالحات، وينبذون تھے اور نیکیوں سے دور تھے ، خوشبودار درخت کو پس پشت السعدة وبالنيتون يفرحون ڈال رہے تھے اور گلے سڑے متعفن درخت پر خوش۔