تبلیغی میدان میں تائید الہٰی کے ایمان افروز واقعات — Page 20
ایک ایک پلڑے میں رکھا جائے تو لازماً حضرت عیسی علیہ السلام والا پلڑا آسمان کی طرف اٹھ جائے گا لہذا ان کا آسمان پر جانا ثابت ہوا۔احمدی دوست کی اللہ تعالیٰ نے راہنمائی فرمائی۔اس نے فوراً کہا کہ اول تو یہ دلیل ہی غلط ہے کیونکہ پانچ سیر کے باٹ کے ترازو میں پڑنے یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل حضرت عیسی علیہ السلام اوپر کیسے جاسکتے ہیں۔اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہی تمہاری دلیل ہے تو پھر یہ بھی جان لو کہ جب تک ترازو کے ایک پلڑے میں پانچ سیر کا باٹ پڑا رہے گا ایک سیر والا دوسرا پلڑا کبھی نیچے نہیں ہو سکتا۔جب تک حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا مزار مقدس مدینہ منورہ میں موجود ہے حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر اسکے رہیں گے اور ان کے نیچے اترنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔11 خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ ۱۹۲۶ء میں دمشق میں انکی ایک انگریز پادری ایلفرڈ نیلسن کے شامی وکیل سے لمبی مذہبی گفتگو ہوئی۔اس نے بڑے طمطراق سے یہ دعوی کیا کہ قرآن مجید کی رو سے حضرت مسیح علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ثابت ہوتے ہیں۔جب دلیل کا مطالبہ کیا تو کہنے لگا کہ قرآن مجید میں حضرت مسیح علیہ السلام کے بارہ میں آیا ہے علما ذكيا (مریم: (۲۰) - لفظ زكينا کسی اور نبی کے حق میں استعمال نہیں ہوا جو اس امر کی دلیل ہے کہ کوئی اور نبی اس صفت میں ان کا شریک نہ تھا لہذا وہ سب نبیوں سے بشمول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم افضل قرار پائے۔حضرت مولانا کو خدا تعالیٰ نے خوب جواب سمجھایا۔آپ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ذکیا تو قرآن میں نہیں لیکن یورکی کا لفظ متعدد بار