تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 248 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 248

ہوں گے اور ہم یہ مانتے ہیں کہ آنے والا آ گیا ہے اور وہ نبی ہے پس ہم دونوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک نبی کا وجود مانا۔فلافرق۔ہاں یہ فرق ضرور ہے کہ ہم نے ایک ایسے شخص کی نبوت کا اقرار کیا ہے جو کہتا ہے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا شاگرد اور آپ کا خادم ہوں اور میں نے جو کچھ پایا ہے آپ کی طفیل اور آپ کے فیض سے پایا ہے مگر تم نے اُس شخص کو آپ کے بعد نبی مانا ہے جس کی نبوت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ساتھ کوئی تلمیذی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ ایک مستقل نبوت ہے جس کے حصول میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فیض اور کسی احسان کا دخل نہیں۔پس اگر سو چو تو تمہارا مسیح نازل ہو کر ضرور ختم نبوت کو توڑ دے گا اور انا أخر الانبياء اور لا نبي بعدی کے سب قول نعوذ باللہ باطل ہو جائیں گے۔مگر حضرت مرزا صاحب کی نبوت نے کوئی چیز باطل نہیں کی بلکہ آپ کی نبوت سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ارفع نبوت کی شان دنیا پر ظاہر ہوئی ہے کہ کیا ہی عالی مرتبہ ہے اس بزرگ نبی سکا جس کے خادم بھی نبوت کا درجہ پاتے ہیں۔اللهم صل علیه و بارک وسلم ہر نبی کے لئے نئی شریعت لانا ضروری نہیں چوتھی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ نبی وہی ہوتا ہے جو کوئی نئی شریعت لائے اور چونکہ شریعت کا سلسلہ اب مسلمہ طور پر ختم ہو چکا ہے اس لئے اب کوئی نبی نہیں آسکتا۔مگر یہ دلیل بھی نہایت بودی اور کچی ہے کیونکہ یہ ایک بین حقیقت ہے کہ ہر نبوت کے ساتھ نئی شریعت کا نزول ہرگز ضروری نہیں ہوتا۔چنانچہ تاریخ عالم پر نظر ڈالنے سے پتہ لگتا ہے کہ بہت سے نبی ایسے گذرے ہیں جن کو کوئی نئی شریعت نہیں دی گئی۔در اصل بات یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک شریعت کا نزول ہوتا ہے تو پھر اس شریعت میں تغیر و تبدل یا نسخ اُسی وقت کیا جاتا ہے کہ جب خدا کی نظر میں بنی نوع انسان کی حالت اس شریعت میں کسی تغیر یا نسخ کی مقتضی ہوتی ہے۔جس طرح مثلاً ایک لائق طبیب اپنے بیمار کے متعلق اس وقت تک اپنا نسخہ نہیں بدلتا جب تک کہ بیمار کی حالت کسی تبدیلی کا نقاضا نہ کرے لیکن باوجود نسخہ نہ بدلے جانے کے اس بات کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے کہ ڈاکٹر 248