تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 247 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 247

اسلامی تاریخ کے سارے زمانوں پر پھیلے ہوئے ہیں اور یہ جو حضرت مولوی محمد قاسم صاحب کے حوالے میں اگر اور بالفرض کے الفاظ آتے ہیں ان سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ یہ صرف امکانی رنگ میں لکھا گیا ہے۔ورنہ حضرت مولوی صاحب کے نزدیک اب نبوت کا دروازہ بند ہے کیونکہ یہاں صرف اصولی رنگ میں امکان کی بحث ہے واقعہ کی بحث نہیں۔واقعہ کی بحث آگے آتی ہے۔پھر لطف یہ ہے کہ جو لوگ سلسلہ نبوت کے بند ہونے کے متعلق فرضی اجماع کے دعویدار ہیں اُن کا خود عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام آسمان سے نازل ہونے والے ہیں اور یہ بھی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی اللہ کے نبی اور رسول تھے اور پھر ساتھ ہی اُن کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جب حضرت عیسی نازل ہونگے تو اُن کی نبوت اور رسالت اُن سے چھینی نہیں جائے گی بلکہ نازل ہونے کے بعد بھی وہ بدستور نبی اور رسول رہیں گے۔ہاں شریعت محمدیہ کے بیشک پابند ہو نگے۔اور قال اللہ اور قال الرسول کے مطابق چلیں گے۔پس اب یہ لوگ ہمیں خدا را بتائیں کہ اُن کا فرضی اجماع کہاں گیا ؟ افسوس دعویٰ تو اجماع کا اور خود اپنا عقیدہ اس کے خلاف ! بندگانِ خداذ را تعقب کی پٹی آنکھوں سے اتار کر دیکھو کہ جس مسیح کی آمد کی تم دن رات راہ تکتے ہو وہ کون ہے؟ کیا وہ اللہ کا نبی اور رسول نہیں؟ پس اگر حضرت عیسی کی تشریف آوری سے ختم نبوت نہیں ٹوٹتی اور لا نبي بعدی اور انا أخر الانبیاءکامفہوم برقرار رہتا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں حضرت مرزا صاحب کے ظلی طور پر نبی کہلانے سے ختم نبوت کیوں ٹوٹتی اور لا نبي بعدی اور انا أخر الانبیاء کا مفہوم کیوں برہم ہونے لگتا ہے؟ اور یہ کہنا کہ حضرت عیسی چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل نبوت حاصل کر چکے تھے اس لئے اُن کے آنے سے ختم نبوت میں رخنہ نہیں پڑتا۔لیکن اب امت محمدیہ میں سے کسی فرد کے نبی بن جانے سے ختم نبوت ٹوٹ جاتی ہے ایک باطل خیال ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل یا آپ کے بعد نبوت کے حاصل ہونے کا سوال نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی آسکتا ہے یا نہیں؟ اب تم یہ مانتے ہو کہ حضرت عیسی نازل ہو نگے اور وہ نبی 247