تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 125 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 125

ناظرین قدرت الہی کا تماشہ دیکھیں کہ اس آخری اشتہار پر ابھی سات ماہ نہیں گذرے تھے کہ آتھم کی صف ۲۷ جولائی ۱۸۹۶ء کو صفحۂ دنیا سے ہمیشہ کے لئے لپیٹ دی گئی۔آتھم کے مرنے کے بعد بھی حضرت مرزا صاحب نے مخالفین پر اتمام حجت کرنے کے لئے مسیحیوں بلکہ تمام مخالفین کو مخاطب کیا اور لکھا کہ :- اگر اب تک کسی عیسائی کو آتھم کے اس افتراء پر کوئی شک ہو تو آسمانی شہادت سے رفع شک کرالیوے۔آتھم تو پیشگوئی کے مطابق فوت ہو گیا اب وہ اپنے تئیں اس کا قائم مقام ٹھہرا آتھم کے مقدمہ میں قسم کھا لیوے یعنی اس مضمون کی قسم کھالے کہ آتھم پیشگوئی کی عظمت سے نہیں ڈرا بلکہ اس پر یہ جو حملے ہوئے تھے ( یعنی اس کا ڈر اس لئے تھا کہ گویا حضرت مرزا صاحب کی طرف سے اُس کے قتل کے لئے کبھی تلواروں والے آدمی بھیجے گئے اور کبھی سانپ چھوڑے گئے۔کبھی کتے سکھا کر بھیجے گئے۔وغیرہ وغیرہ۔نعوذ باللہ من ذالک) اگر یہ قسم کھانے والا بھی ایک سال تک بچ گیا تو دیکھو میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ میں اپنے ہاتھ سے شائع کر دوں گا کہ میری پیشگوئی غلط نکلی۔اس قسم کے ساتھ کوئی شرط نہ ہوگی۔یہ نہایت صاف فیصلہ ہو جائے گا اور جو شخص خدا کے نزد یک باطل پر ہے اس کا بطلان کھل جاوے گا۔(دیکھو انجام آتھم صفحہ ۱۵) مگر اس پر بھی مسیحیت کا کوئی بہادر سپوت مرد میدان بن کر سامنے نہ آیا اللہ اکبر! یہ کتنی بڑی ذلت اور شکست تھی جو اسلام کے مقابلہ میں مسیحیت کو پہنچی۔مگر جس کی آنکھ نہ ہو وہ کیسے دیکھے۔مکمل بحث کے لئے دیکھو جنگ مقدس۔انوار الاسلام - آنجام آتھم وغیرہ) آتھم کی اس ذلت کی موت نے عیسائی کیمپ میں عداوت اور حسد کی شدید آگ مشتعل کر دی۔چنانچہ ابھی اس کی موت پر زیادہ عرصہ نہ گذرا تھا کہ ڈاکٹر مارٹن کلارک نے جو امرتسر کا ایک نہایت مشہور عیسائی مشنری تھا اور امرتسر کے مباحثہ میں بھی آتھم کا معین و مددگار رہا تھا۔حضرت مرزا صاحب پر اقدام قتل کا ایک جھوٹا مقدمہ قائم کر دیا اور دعویٰ کیا کہ مرزا صاحب نے ایک شخص 125