تبلیغِ ہدایت — Page 126
عبد الحمید جبلی کو میرے قتل کے لئے امرتسر بھیجا ہے اور پادری صاحب موصوف نے لالچ اور خوف دلا کر عبدالحمید مذکور سے اپنے مفید مطلب بیان بھی دلواد یا لیکن پیشتر اس کے کہ یہ مقدمہ پیش ہوتا اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا صاحب کو الہام کے ذریعہ خبر دی کہ آپ کے خلاف ایک مقدمہ ہونے والا ہے مگر اس کا انجام بریت ہے۔چنانچہ آپ نے اس الہام کی اشاعت فرما دی۔اس کے بعد اس مقدمہ کی کارروائی شروع ہوئی اور آریوں اور بعض مسلمانوں نے عیسائیوں کی امداد کی اور معلم گھلا اُن کا ساتھ دیا۔آریہ وکیلوں نے مارٹن کلارک کی طرف سے مفت مقدمہ کی پیروی کی اور بعض مسلمان مولویوں نے بڑھ بڑھ کر حضرت مرزا صاحب کے خلاف شہادتیں دیں مگر اللہ تعالیٰ نے کپتان ڈگلس ڈپٹی کمشنر گورداسپور پر حق کھول دیا اور بالآخر نتیجہ یہ ہوا کہ عبدالحمید نے کپتان ڈگلس کے پاؤں پر گر کر اس بات کا اقرار کیا کہ یہ مقدمہ بناوٹی ہے اور مجھے پادریوں نے سکھایا تھا کہ اس اس قسم کا بیان دو۔پس آپ اللہ تعالی کی بشارت کے مطابق عزت کے ساتھ بری کئے گئے اور عیسائی پادریوں کے ماتھے پر ذلت اور شکست کے علاوہ جھوٹ اور سازش اور ارادہ قتل کا سیاہ داغ لگ گیا اور اسلام کو ایک نمایاں فتح نصیب ہوئی۔دیکھو حضرت مرزا صاحب کی تصنیف کتاب البریۃ ) جب حضرت مرزا صاحب نے دیکھا کہ عیسائیوں میں سے کوئی شخص دُعا اور افاضۂ روحانی کے مقابلہ کے لئے آگے نہیں آتا تو آپ نے اُن کو مباہلہ کے لئے بلایا۔یعنی عیسائیوں کو دعوت دی کہ اگر تمہیں اپنے مذہب کے سچا ہونے کا یقین ہے تو میرے ساتھ مباہلہ کرلو۔یعنی میرے مقابل پر آکر یہ دعا کرو کہ اے ہمارے خدا ہم مسیحیت کو سچا سمجھتے ہیں اور اسلام کو ایک جھوٹ مذ ہب جانتے ہیں اور ہما را مد مقابل مرزا غلام احمد قادیانی اسلام کو سچا سمجھتا اور مسیحیت کے عقائد کو باطل قرار دیتا ہے اب اے خدا تو جو حقیقت امر سے آگاہ ہے تو ہم دونوں میں سچ سچا فیصلہ فرما اور ہم میں سے جو فریق اپنے دعوی میں جھوٹا ہے اس کو بچے فریق کی زندگی میں ایک سال کے اندر اندر عذاب میں مبتلا کر۔اور حضرت مرزا صاحب نے لکھا کہ اسی طرح میں بھی دُعا کروں گا اور پھر ہم دیکھیں گے کہ خدا کس کو عذاب میں مبتلا کرتا ہے اور کس کی عزت ظاہر ہوتی ہے مگر افسوس عیسائیوں میں سے اس 126