تبلیغِ ہدایت — Page 124
دونگا اور نیز اس صورت میں میں جھوٹا ہونگا اور تم سچے ثابت ہوگے اور یہ روپیہ ابھی سے جس ثالث کے پاس چاہو کھالو اور اپنی تسلی کرلو۔مگر آتھم صاحب اس طرف نہ آئے۔اس پر آپ نے دوسرا اشتہار دیا کہ ہم دو ہزار روپیہ دیں گے اگر آتھم قسم کھالے کہ میں نے رجوع نہیں کیا مگر ادھر سے پھر بھی خاموشی رہی۔اس پر آپ نے ایک تیسرا اشتہار دیا کہ اگر آتھم قسم کھالے تو میں تین ہزار دو پہیہ انعام دونگا مگر پھر بھی صدائے برنخو است۔بالآخر آپ نے چوتھا اشتہار دیا کہ میں چار ہزار روپیہ نقد انعام دیتا ہوں اگر آتھم یہ قسم کھالے کہ پیشگوئی کا خوف اس کے دل پر غالب نہیں ہوا اور اُس نے حق کی طرف رجوع نہیں کیا اور آپ نے لکھا کہ اگر تم نے قسم کھالی تو ایک سال میں تمہارا خاتمہ ہے اور اس کے ساتھ کوئی شرط نہیں ، لیکن اگر تم نے قسم نہ کھائی تو ہر عقلمند کے نزدیک ثابت ہو جائے گا کہ تم نے اپنی خاموشی سے حق پر پردہ ڈالنا چاہا ہے۔اس صورت میں گو میں ایک سال کی قید تو نہیں لگاتا لیکن یہ کہتا ہوں کہ جلد تمہارا خاتمہ ہے اور کوئی مصنوعی خدا تمہیں اس ہلاکت سے بچا نہ سکے گا۔پھر اس کے بعد آپ نے ۳۰ر دسمبر ۱۸۹۵ ی کو ایک اور اشتہار دے کر اس مضمون کو دُہرایا اور لکھا کہ :- مجھے اُسی خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر آتھم اب بھی قسم کھانا چاہے اور انہیں الفاظ کے ساتھ جو میں پیش کرتا ہوں (یعنی یہ کہ پندرہ ما ہی میعاد میں اس کے دل پر پیشگوئی کا خوف غالب نہیں ہوا اور اسلام کی صداقت کا رعب اس کے دل پر نہیں پڑا اور اس نے کوئی رجوع نہیں کیا ) ایک مجمع میں میرے رو برو تین مرتبہ قسم کھا دے اور ہم آمین کہیں تو میں اسی وقت چار ہزار رو پید اس کو دیدوں گا۔اگر تاریخ قسم سے ایک سال تک وہ زندہ سالم رہا تو وہ اس کا روپیہ ہو گا اور پھر اس کے بعد یہ تمام قو میں مجھ کو جو سزا چاہیں دیں۔اگر مجھ کو تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کریں تو میں عذر نہیں کروں گا اور اگر دنیا کی سزاؤں میں سے مجھ کو وہ سزا د میں جو سخت تر سزا ہے تو میں انکار نہیں کروں گا اور خود میرے لئے اس سے زیادہ کوئی رسوائی نہیں ہوگی کہ میں اس کی قسم کے بعد جس کی میرے ہی الہام پر بنا ہے جھوٹا نکلوں۔(دیکھو تبلیغ رسالت جلد چہارم) 124