تبلیغِ ہدایت — Page 77
یعنی ”آخری زمانہ میں زمین اپنے تمام مخفی بوجھ نکال کر باہر پھینک دے گی اور مادی علوم کی کثرت ہوگی“۔وغیرہ وغیرہ اب دیکھ لو کہ اس زمانہ میں یہ علامت کس صراحت کے ساتھ پوری ہوئی ہے۔نئی نئی سواریاں مثلاً ریل، موثر، جہاز، ہوائی جہاز۔پھر محکمہ ڈاک تار، بے تار کی برقی اور ٹیلیفون اور ٹیلی ویژن اور ریڈیو۔اور پھر نہریں اور پھر کثرت اشاعتِ کتب و رسالہ جات واخبارات۔پھر ایجادات مطبع و ٹائپ و شارٹ ہینڈ وغیرہ وغیرہ نے کس طرح ساری دنیا کو ایک کر رکھا ہے اور اشاعت دین کے کام کو کیسا آسان کر دیا ہے؟ اور ریل اور موٹر وغیرہ نے اونٹنیوں وغیرہ کو عملاً بیکا ر کر رکھا ہے اور خود عرب کے ملک میں بھی ریل پہنچ چکی ہے اور قریب ہے کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان بھی ریل جاری ہو کر اونٹنیوں کو جہاں تک لمبے سفروں کا تعلق ہے بالکل ہی بے کار کر دے جیسا کہ اور اکثر جگہ اس نے کر دیا ہے در حقیقت یہ علامت اس زمانہ میں اس صفائی کے ساتھ پوری ہوئی ہے کہ کسی عقلمند کے نزدیک کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہی۔فالحمد للہ علی ذلک۔اسی طرح اس زمانہ میں دُنیوی علوم کی بھی جو کثرت ہے اس کی مثال کسی پہلے زمانہ میں نہیں ملتی۔اور یا درکھنا چاہئے کہ ضرور تھا کہ مسیح موعود کی بعثت کے لئے کوئی ایسا ہی زمانہ منتخب کیا جاتا کیونکہ مسیح موعود کا زمانہ اشاعت دین کا زمانہ ہے۔پس اس کے زمانہ میں اشاعت کے سامانوں کا مہیا ہونا از بس ضروری تھا تا وہ اور اس کی جماعت آسانی کے ساتھ فرض تبلیغ ادا کر سکے۔دوسری علامت دوسری علامت مسیح موعود کے زمانہ کی یہ بتائی گئی تھی کہ اس زمانہ میں صلیبی مذہب کا بڑاز ور ہوگا۔یعنی نصاری بڑے زوروں پر ہونگے۔چنانچہ علاوہ قرآنی اشارات کے حدیث شریف میں مسیح موعود کے کام کے متعلق صراحۃ آتا ہے کہ یکسر الصليب ( دیکھو بخاری و دیگر کتب حدیث) یعنی مسیح موعود صلیب کو توڑ دے گا۔جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ وہ ایسے زمانہ میں آئے گا کہ اُس وقت صلیبی مذہب بڑے زور میں ہوگا تبھی تو وہ اس کے مقابلہ میں اُٹھ کر اس کو توڑے گا۔77