تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 76 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 76

قرآن شریف اور احادیث نبوی سے ثابت ہوتی ہیں۔سو ہم ان دس علامات کو الگ الگ سامنے رکھ کر حضرت مرزا صاحب کی صداقت کو پر کھتے ہیں تا حق و باطل میں امتیاز ہو کر طالب حق کو فیصلہ کی راہ ملے۔وما توفیقی الا الله - پہلی علامت پہلی علامت قرآن شریف کی ان آیات سے پریت لگتی ہے جہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَإِذَا لُعِشَارُ عُقِّلَتْ وَإِذَا الْبِحَارُ سَجَرَتْ O وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ وَإِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ (سورة تكوير ع ١) یعنی " قرب قیامت اور نزول مسیح موعود کی یہ علامت ہے کہ اس زمانہ میں اونٹنیوں کی سورای معطل ہو جائے گی۔یعنی بوجہ نئی نئی اور بہتر سواریاں نکل آنے کے اونٹوں کی سواری چھوڑ دی جائے گی۔اور دریا اور سمندر پھاڑے جائیں گے یعنی ان کو پھاڑ پھاڑ کر نہریں بنائی جائیں گی اور کتب اور اخبار و رسالے کثرت کے ساتھ شائع ہونگے۔یعنی مطبع ایجاد ہو کر اخباروں رسالوں اور کتابوں کی اشاعت کا کام بے حد وسیع ہو جائے گا اور مختلف ممالک کے لوگ آپس میں مل جل جائیں گے۔یعنی وسائل کی اتنی کثرت ہو گی کہ گذشتہ زمانوں کی طرح ایسا نہیں رہے گا کہ تو میں الگ الگ رہیں بلکہ میل جول کی کثرت سے تمام دنیا گویا ایک ہی ملک ہو جائے گی“۔اور پھر اس کی تائید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث بھی ہے۔فرماتے ہیں:- ليتركن القلاص فلا يسعى عليها۔( صحیح مسلم جلد ۲) یعنی اونٹنیاں چھوڑ دی جائیں گی اور اُن پر نہ سوار کیا جائے گا“۔اور قرآن شریف میں ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ :- اَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا - ( سورة الزلزال ع ١ ) 76