تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 78 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 78

ورنہ ویسے عیسائیت کا وجود تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی تھا مگر آپ کے متعلق کسیر صلیب کا لفظ نہیں آیا۔پس ثابت ہوا کہ کسر صلیب سے مراد یہ ہے کہ پہلے صلیبی مذہب زوروں پر ہو اور پھر کوئی شخص اس کا زور توڑ کر اُسے اسلام کے مقابل پر مغلوب کر دے۔اب دیکھ لو کہ اس زمانہ میں صلیبی مذہب کا کتنا زور ہے۔حتی کہ چاروں طرف اسی مذہب کے پیر ونظر آتے ہیں اور انہوں نے ساری دنیا میں اپنے مذہب کی تبلیغ کا ایک عظیم الشان جال پھیلا رکھا ہے۔پس ثابت ہوا کہ یہی وہ زمانہ ہے جس میں مسیح موعود کو نازل ہونا چاہیئے۔خود کسر صلیب کی تشریح اور تفصیل کے متعلق ہم آگے چل کر بحث کریں گے۔اس جگہ صرف یہ دکھانا مقصود ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ کی یہ ایک علامت بیان کی گئی تھی کہ اس وقت یسوعی مذہب کا زور ہوگا۔چنانچہ یہ زمانہ اس علامت کو پوری طرح ظاہر کر چکا ہے۔وہو المراد۔تیسری علامت تیسری علامت مسیح موعود کی یہ بیان کی گئی تھی کہ اس زمانہ میں دجال کا خروج ہوگا۔چنانچہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ:- ما من نبي الاقد انذر أمته الأغور الكذاب أَلَا إِنَّه اغوروان ربِّكم ليس باغور۔مکتوب بین عینیه ک ف۔رووفی روایة وانه يجى معه بمثل الجنة والنار فالتي يقول أنّها الجنّة هي النار۔وَفِي رواية انّ الدجال يخرج وان معه ماءً ونارا فاما الذي يراه الناسُ ماء فنار تحرق واما الذى يراه النّاس نارا فماء بارد وعذب وان الدجال ممسوح العين عليها ظفرة غليظة مكتوب بين عينيه كافر يقرأُهُ كُلُّ مؤمن كاتب وغير كاتب وفى رواية ان الدّجال اعور العين اليمني فمن ادركه منكم فليقرأ عليه فواتح سورة الكهف فانها جواركم من فتنته وفى رواية ويائرُ السّماءَ فَتَمْطُرُ وَيَأْمر الارض فَتُنْبِت ويمر 78