تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 255 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 255

کی جماعت سے کون لوگ مراد ہیں۔اور وہ کون سے انعامات ہیں جو ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کئے گئے تھے اس کے لئے ہمیں عقلی گھوڑے دوڑانے کی ضرورت نہیں کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں منعم علیہ گروہ کی تفصیل بیان فرما دی ہے چنانچہ فرماتا ہے:۔وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِينَ وَالصَّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا۔(سورۃ النساء ع ٩) یعنی ” جو لوگ اللہ اور اُس کے اس رسول علﷺ کی اتباع اختیار کرتے ہیں وہ ان لوگوں میں شامل کئے جائیں گے جن پر اللہ نے انعام کئے ہیں اور وہ منعم علیہ کون ہیں؟ وہ نبی ہیں اور صدیق ہیں اور شہید ہیں اور صالح ہیں۔“ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تعین فرما دی ہے کہ منعم علیہ جماعت سے مراد نبی اور صدیق اور شہید اور صالح ہیں۔گویا روحانی انعامات کے چار درجے ہوئے۔اوّل نبوت یعنی خدا کی طرف سے کثرت مکالمہ مخاطبہ سے مشرف ہو کر اور نبی کا لقب پا کر لوگوں کی اصلاح کے لئے مبعوث ہونا۔دوسرے صد یقیت یعنی خدا اور رسول کے احکام کی فرمانبرداری کا ایسا کامل نمونہ دکھانا کہ انسان گویا اپنے قول و فعل سے مجسم تصدیق ہو جائے اور فنافی اللہ اور فنافی الرسول کا درجہ پالے۔تیسرے شہادت یعنی دین کے رستہ میں اس طرح اپنی جان لگا دینا کہ انسان کا وجود گو یا مذہب کی صداقت کے لئے ایک مجسم شہادت یعنی گواہی بن جائے اور چوتھے صالحیت یعنی اپنے آپ کو مذہب کا رنگ اختیار کرنے کے مناسب حال بنانا۔اور اپنے اعمال کو دین کے مطابق بنانے کے لئے کوشاں رہنا گویا سب سے چھوٹا درجہ روحانی انعام اور قرب الہی کا یہ ہے کہ انسان صالح ہو جائے۔اس سے اوپر کا درجہ شہید کا ہے اور اس سے اوپر کا درجہ صدیق کا ہے اور پھر اس سے بھی اوپر کا درجہ جو گو یا آخری روحانی درجہ ہے نبی کا ہے اور پھر ان چاروں درجوں کے اندر بھی مختلف درجے ہیں یعنی سب صالح ایک جیسے نہیں اور سب شہید ایک جیسے نہیں اور سب صدیق ایک جیسے نہیں اور سب نبی بھی ایک جیسے نہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ 255