تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 256 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 256

عَلَى بَغض۔(سورۃ بقرہ ع۳۳) یعنی ” سب نبی اور رسول ایک درجے کے نہیں ہوتے بلکہ ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔مگر بہر حال موٹی تقسیم کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے یہ چار روحانی در جے مقرر فرمائے ہیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔اب جاننا چاہئے کہ ایک طرف تو سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ دعا سکھائی ہے کہ مجھ سے تم وہ انعامات مانگو جو گذشتہ لوگوں پر میری طرف سے ہوتے رہے ہیں اور دوسری طرف خود انعامات کی تشریح فرما دی ہے کہ ان انعامات سے مراد نیقت اور صدیقیت اور شہادت اور صالحیت کے انعامات ہیں۔گو یا بالفاظ دیگر اللہ تعالیٰ یہ ارشاد فرماتا ہے کہ ہم اُس سے نبوت، صدیقیت ، شہادت اور صالحیت کے حصول کے لئے دُعا کیا کریں اور اپنی روحانی ترقیات کے منتہی کو پست نہ ہونے دیں۔اب اس سے صاف ظاہر ہے کہ امت محمدیہ میں نبوت کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ اگر نبوت کا انعام اس اُمت پر بند ہوتا تو خدا تعالیٰ ہمیں ہرگز یہ دُعا نہ سکھاتا کہ مجھ سے نبوت کا انعام مانگو۔اللہ تعالیٰ کا یہ دعا سکھانا صاف ظاہر کرتا ہے کہ اُس کا یہ منشاء ہے کہ اگر لوگ اس سے یہ انعامات مانگیں اور اپنے آپ کو ان کا جاذب بنا ئیں تو پھر وہ انہیں علی قدر مراتب اور حسب ضرورت زمانہ یہ انعامات عطا کرے گا ورنہ نعوذ باللہ یہ ماننا پڑے گا کہ ایک طرف تو خدا نے یہ دُعا سکھائی کہ تم مجھ سے تمام وہ انعامات مانگو جو میں نے تم سے پہلے لوگوں پر کئے ہیں اور جن میں نبوت بھی شامل ہے اور دوسری طرف خود نبوت کا دروازہ بند کر کے یہ فیصلہ فرما دیا کہ اب نبوت کا انعام کسی شخص کو نہیں مل سکتا۔ایسی گری ہوئی حرکت تو ایک ادنی اخلاق کا آدمی بھی نہیں کرے گا کہ ایک طرف تو ایک فقیر سے یہ کہے کہ تم مجھ سے فلاں چیز مانگو اور دوسری طرف اُسے یہ سنائے کہ یہ چیز تو میں تمہیں کبھی نہیں دوں گا۔کیا ایسے شخص سے کوئی یہ نہیں کہے گا کہ اے بھلے مانس جب تجھے وہ چیز دینی ہی نہ تھی تو بے چارے نادار درویش سے اس کا سوال کرنے کے لئے کہنا کیا ضروری تھا؟ افسوس ہمارے مخالفین نے خدا کی قدر نہیں کی۔وہ بادشاہوں کا بادشاہ جس کے ایک گن سے یہ تمام عالم وجود میں آیا اور جس کے خزانے کبھی کم نہیں ہوتے ہمیں ایک سوال سکھاتا ہے اور خود کہتا ہے اور قرآن کے 256