تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 251 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 251

ہر نبی ایک معنی میں کتاب لاتا ہے بعض لوگ یہ شبہ پیش کرتے ہیں کہ قرآن شریف نے بعض ان نبیوں کے متعلق جن کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ کوئی نئی شریعت نہیں لائے یہ بیان کیا ہے کہ اُن کو کتاب دی گئی تھی۔( مثلاً دیکھوسورۃ انعام ع۱۰) جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شریعت لائے تھے اس کے جواب میں جاننا چاہئے کہ کتاب کے لفظ سے یہ سمجھنا کہ اس سے نئی شریعت مراد ہے سخت دھوکے کی راہ ہے بلکہ حق یہ ہے کہ کتاب سے عموماً وہ کلام الہی مراد ہوتا ہے جو ایک نبی پر نازل ہوتا ہے خواہ وہ شریعت کا حامل ہو یا نہ ہو۔گویا شریعت لانے والے نبی کی کتاب اُس تشریعی الہام کو کہتے ہیں جو اُ سے خدا کی طرف سے ملتا ہے اور غیر تشریعی نبی کی کتاب اس کلام الہی کو کہتے ہیں جو مبشرات ومنذرات کے رنگ میں اسے عطا کیا جاتا ہے۔اسی واسطے قرآن شریف نے انجیل کو باوجود اس کے کہ وہ شریعت کی کتاب نہیں کتاب کہا ہے پس ثابت ہوا کہ کتاب سے ہمیشہ شریعت مراد نہیں ہوتی۔دوسرے اس شبہ کا جواب یہ بھی ہے کہ گو بعض نبی نئی شریعت تو نہیں لاتے اور گذشتہ شریعت کی پیروی میں ہی مبعوث کئے جاتے ہیں، لیکن ایک جہت سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ بھی شریعت لائے ہیں کیونکہ ایک غیر تشریعی نبی بھی اُسی وقت مبعوث کیا جاتا ہے جب سابقہ شریعت کا علم لوگوں کے دلوں سے اُٹھ جاتا ہے۔اس طرح وہ گویا پھر دوبارہ سابقہ شریعت کو دنیا میں قائم کرتا ہے پس با وجود اس کے کہ وہ کوئی نئی شریعت نہیں لاتا ایک لحاظ سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ شریعت اور کتاب لایا ہے مثلاً حضرت عیسی کوئی نئی شریعت نہیں لائے تھے مگر اس میں کیا شک ہے کہ اُن کی بعثت ایسے زمانہ میں ہوئی جب تو راۃ معنوی طور پر بنی اسرائیل سے اُٹھ گئی تھی اور حضرت عیسی نے اُسے دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کی۔گویا اس معنی میں تو راۃ دوبارہ اُن پر نازل ہوئی۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ ایک زمانہ آئے گا (یعنی مسیح موعود کی بعثت سے قبل کا زمانہ ) کہ جب قرآن دنیا سے اُٹھ جائے گا اس سے بھی یہی مراد ہے کہ قرآن دنیا میں ہوتے ہوئے دنیا سے مفقود ہو جائے گا۔یعنی اس کے الفاظ تو موجود ہونگے مگر اس کی رُوح اُٹھ جائے گی اور پھر مسیح موعود دوبارہ 251