تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 250 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 250

ہے ) پس جو کوئی ان چھوٹے سے چھوٹے حکموں میں سے بھی کسی کو توڑے گا اور یہی آدمیوں کو سکھائے گا وہ آسمان کی بادشاہت میں سب سے چھوٹا کہلائے گا لیکن جوان پر عمل کرے گا اور ان کی تعلیم دے گا وہ آسمان کی بادشاہت میں بڑا کہلائے گا“۔(متی باب ۵ آیت ۱۷ تا ۱۹) ان حوالوں سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ناصری بلکہ حضرت موسیٰ کے بعد آنے والے تمام اسرائیلی نبی کوئی نئی شریعت نہ لائے تھے صرف تو رات کی خدمت اور بنی اسرائیل کی روحانی اصلاح کے لئے مبعوث کئے گئے تھے۔پھر خود قرآن شریف سے بھی صاف پتہ لگتا ہے کہ ہر نبی کے ساتھ نئی شریعت کا نزول ضروری نہیں ہوتا بلکہ کئی نبی بغیر نئی شریعت کے بھیجے جاتے ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- وَقَفَيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ۔(سورۃ بقرہ ع۱۱) اور انَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَةَ فِيهَا هُدًى وَنُوْرٌ يَحْكُمْ بِهَا النَّبِيُّوْنَ الَّذِينَ أَسْلَمُوْ لِلَّذِينَ هَادُوْا۔(سورۃ مائدہ (ع) یعنی ” موسی کے بعد ہم نے پے در پے کئی نبی بھیجے جن کے ساتھ کوئی جدید شریعت نہ تھی بلکہ وہ اپنے تمام فیصلے تو رات کے مطابق کرتے تھے جن میں اُن کے لئے ہدایت اور نور کا سامان تھا۔“ اس آیت کریمہ میں کیسے بین اور صاف الفاظ میں اس مسئلہ کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ بہت سے نبی ایسے گذرے ہیں جنہیں کوئی نئی شریعت نہیں دی گئی۔مگر جو شخص آنکھیں بند کر لے ہم اُسے کس طرح دکھا ئیں۔غرض عقل خدا داد اور تاریخ اور قرآن شریف تینوں شہادت دے رہے ہیں کہ ہر نبی کے لئے نئی شریعت کا لانا ضروری نہیں ہوتا تو اب یہ کہنا کہ چونکہ قرآن شریف کے ساتھ نئی شریعت کا نزول اختتام کو پہنچ چکا ہے اس لئے اب کوئی نبی نہیں آسکتا ایک سراسر باطل دعوی ہے جس کی کچھ بھی حقیقت نہیں۔250