تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 152 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 152

شکار ہو گئے اور ساتھ ہی اخبار شجھ چنتک بھی ہمیشہ کے لئے خاک میں مل گیا۔فاعتبروا یا اولی الابصار - - یہ نشان بھی لیکھرام کے نشان سے کم نہیں بلکہ اس سے اُس اعتراض کا بھی صفایا ہو گیا کہ لیکھرام کونعوذ باللہ حضرت مرزا صاحب نے قتل کروا دیا تھا۔نادانو الیکھرام کو تو تمہارے زعم میں حضرت مرزا صاحب کی چھری مار گئی اور تم نے یہ شبہ کر کے اپنے آنسو پونچھ لئے مگر اچھر چند اور سومراج اور بھگت رام کو کس چھری نے مارا؟ اگر آنکھیں ہیں تو اب بھی دیکھو۔کان ہیں تو اب بھی ئن لو۔دل ہے تو اب بھی سوچو کہ دونوں موقعوں پر وہی ایک چیز تھی یعنی غضب الہی جو ایک کے پیٹ میں فولادی چھری بن کر گھس گئی اور دوسروں کو طاعون کا کیڑا بن کر کھا گئی اور ضمناً اس نشان سے اس اعتراض کا جواب بھی ہو گیا کہ قادیان میں طاعون کیوں آیا۔کیونکہ اول تو حضرت مرزا صاحب کا ایسا کوئی الہام نہیں تھا کہ قادیان میں طاعون بالکل ہی نہیں آئے گا بلکہ الہام صرف یہ تھا کہ یہاں طاعون جارف نہیں آئے گا۔یعنی ایسا طاعون نہیں آئے گا جو گاؤں کو ویران و تباہ کر دینے والا ہو اور لوگ سراسیمہ ہو کر ادھر اُدھر بھاگ جاویں۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرما یا لولا الاکرام لهلک المقام یعنی ”اگر ہمیں اس بات کا پاس نہ ہوتا کہ قادیان ہمارے ایک برگزیدہ رسول کا تخت گاہ ہے تو یہ گاؤں ضرور اس بات کا حقدار تھا کہ اسے بالکل ہی ہلاک و بر باد کر دیا جاتا“ مگر انہ أوى القرية يعني ” اب اسے کامل ویرانی و تباہی سے بچایا جاوے گا“۔دوسرے یہ کہ اگر قادیان میں طاعون بالکل ہی نہ آتا تو یہ نشان کس طرح ظاہر ہوتا کہ ایک ہی جگہ گویا دیوار بدیوار حضرت مرزا صاحب اور اچھر چند اور سومراج اور بھگت رام وغیرہ رہتے ہیں اور دونوں فریق اس بات کا دعوی کرتے ہیں کہ ہم طاعون سے محفوظ رہیں گے مگر طاعون آتا ہے اور اچھر چند اور سومراج اور بھگت رام کا صفایا کر جاتا ہے لیکن حضرت مرزا صاحب کے گھر میں ایک چوہا تک نہیں مرتا۔الغرض حضرت مرزا صاحب نے آریوں کے ساتھ نقل و عقل کے طریق پر اور روحانی مقابلہ کے رنگ میں یعنی دونوں طرح جنگ کی اور کامل فتح پائی۔فالحمد لله على ذالك 152