تبلیغِ ہدایت — Page 153
حضرت مرزا صاحب کا سکھوں سے مقابلہ تیسرا مذہب سکھوں کا ہے اس مذہب کے پیروگو تعداد میں ایسے زیادہ نہیں اور پنجاب سے باہر اس مذہب کا بہت کم اثر ہے مگر اس میں شک نہیں کہ خود پنجاب کے اندر سکھوں کی قوم کافی وجاہت اور اثر رکھتی ہے اور اپنے مذہب کے لئے بھی یہ لوگ کچھ نہ کچھ ہاتھ پاؤں مارتے رہتے ہیں۔اس مذہب میں اب تک یہ خوبی رہی ہے گو حال میں اس کے خلاف بعض نمونے قائم ہونے شروع ہو گئے ہیں جو ایک نہایت قابل افسوس امر ہے ) کہ یہ دوسرے مذاہب کے بزرگوں کے متعلق عموماً ایسی بد زبانی استعمال نہیں کرتے جو آریہ یا عیسائی لوگ کرتے ہیں۔اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ یہ لوگ اسلام کے دشمن نہیں ہیں۔دراصل ان کا عام طبقہ اپنی وحشت اور تعصب میں ضرب المثل کے مرتبہ تک پہنچا ہوا ہے اور اسلام سے سخت عناد رکھتا ہے مگر جو سکھ تعلیم یافتہ ہیں۔اُن میں عموماً دوسروں کی نسبت زیادہ شرافت پائی جاتی ہے۔(یہ لکی تقسیم سے پہلے کا نوٹ ہے ) بہر حال سکھوں کے ساتھ حضرت مرزا صاحب کا کوئی روحانی مقابلہ نہیں ہوا۔بے شک ان عام چیلنجوں میں جو حضرت مرزا صاحب کی طرف سے غیر مذاہب والوں کے نام نکلتے تھے۔یہ لوگ بھی مخاطب ہوتے تھے لیکن ان میں سے کوئی شخص با قاعدہ اڈہ جما کر حضرت مرزا صاحب کے سامنے نہیں آیا۔ہاں سکھوں کے متعلق حضرت مرزا صاحب نے خود کافی توجہ فرمائی ہے۔جس کا بیان اس طرح پر ہے کہ جس زمانے میں آپ نے ابھی تک کوئی دعوئی وغیرہ شائع نہیں کیا تھا آپ نے سکھوں کے بانی حضرت بابا گورو نانک صاحب کو خواب میں دیکھا تھا اور خواب میں ہی بابا صاحب موصوف نے آپ کے سامنے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ میں مسلمان ہوں چنانچہ آپ اس بات کے منتظر رہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی موقعہ پیدا کرے کہ بابا صاحب کا اسلام ثابت ہوجاوے۔بالآخر آپ نے اس طرف توجہ فرمائی اور تحقیق کا سلسلہ شروع کیا تو نہایت زبردست تاریخی شہادتوں سے ثابت ہو گیا کہ در حقیقت بابا صاحب ایک بزرگ مرتبہ ولی تھے جو ہندوؤں کے گھر پیدا ہوئے اور بعد میں مسلمان ہو کر درویشی طریق پر ایک سلسلہ کے بانی ہوئے۔حضرت مرزا 153