تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 133 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 133

مقابلہ کا ذکر کریں گے آریوں کے ساتھ حضرت مرزا صاحب کے پبلک مقابلہ کی ابتداء پنڈت دیانند سرسوتی کے اس اعلان سے ہوئی جو ۱۸۷۷ء میں اخبارات کے ذریعہ کیا گیا تھا اور اس اعلان کا مفہوم یہ تھا کہ ارواح موجودہ بے انت ہیں اور اس کثرت سے ہیں کہ پر میشور کو بھی اُن کی تعداد معلوم نہیں اس واسطے وہ ہمیشہ مکتی پاتی رہیں گی مگر کبھی ختم نہیں ہوں گی اس سراسر باطل عقیدہ کے اعلان پر پہلی روح جو حرکت میں آئی وہ حضرت مرزا صاحب کی مقدس روح تھی۔آپ نے اس عقیدہ کے خلاف بڑے زبر دست اور مسکت مضامین اخباروں میں شائع کئے۔اور جواب دینے والے کے لئے پانچ سو رو پید انعام رکھا ان مضامین سے آریہ کیمپ میں کھلبلی پڑگئی۔اس سے پہلے ان کی یہ حالت تھی کہ بے دھڑک اپنی جارحانہ کارروائیوں میں بڑھتے چلے آتے تھے مگر یہ پہلا گولہ تھا جو ان کے کیمپ میں گرا اور اس نے اُن کو بالکل سراسیمہ کر دیا۔اس سے پہلے حضرت مرزا صاحب کا کام بھی ایک گوشئہ گمنامی میں پڑا تھا اور کوئی آپ کو نہ جانتا تھا مگر اِن مضامین سے لوگوں کی نظریں آپ کی طرف حیرت کے ساتھ اٹھنی شروع ہوئیں اور خود آریوں پر بھی یہ اثر ہوا کہ بعض بڑے بڑے ذی رتبہ آریہ یہ اعلان کرنے پر مجبور ہوئے کہ ارواح کے بے انت ہونے کا خیال پنڈت دیا نند صاحب کا ذاتی خیال ہوگا ہمارا یہ خیال نہیں ہے۔چنانچہ لالہ جیون داس صاحب نے جو اُن دنوں لاہور کی آریہ سماج سکریٹری تھے اور آریوں میں ایک نہایت ممتاز شخص تھے بذریعہ اخبار شائع کیا کہ یہ مسئلہ سماج کے اصولوں میں داخل نہیں۔اگر کوئی ممبر سماج کا اس کا دعویدار ہو تو اس سے سوال کرنا چاہئے اور اُس کو اس کا جواب دینا لا زم ہے۔( دیکھو حیات النبی ) اور یہ بھی لکھا کہ ” آریہ سوامی دیانند کو واجب الاطاعت لیڈر نہیں سمجھتے اس لئے ضروری نہیں کہ اُن کے سب عقائد کو تمام آریہ لوگ تسلیم کریں“۔سبحان اللہ ! یہ کیسی عظیم الشان فتح تھی جو حضرت مرزا صاحب کو آریوں کے مقابل پر حاصل ہوئی کہ ایک ہی حملہ کے نتیجہ میں وہ اپنا میدان چھوڑ گئے۔مگر اور لیجئے۔آپ نے اپنے پے در پے مضامین سے پنڈت دیانن کو چیلنج دیا کہ میرے مقابلہ میں ارواح کے بے انت ہونے کے دعویٰ کو ثابت کرو اور مجھ سے انعام لو۔اس پر پنڈت جی 133