تبلیغِ ہدایت — Page 132
دوسر استون اس مذہب کا آواگون یعنی مسئلہ تناسخ ہے یعنی یہ کہ رُوحیں اپنے اعمال کے نتیجے میں مختلف جنم بھوگتی رہتی ہیں اور اس جنم کے چکر سے کبھی پورے طور پر آزاد نہیں ہوتیں اگر کوئی شخص اچھے عمل کرتا ہے اسے اچھا جنم دیا جاتا ہے اور بد اعمال شخص بُرے جنم میں ڈالا جاتا ہے مگر پوری طرح کوئی روح نجات نہیں پاتی اور جب سے کہ کائنات ہے یہی دور جاری چلا آیا ہے اور اسی طرح جاری چلا جائے گا اور اگر کسی کو مکتی یعنی نجات ملتی بھی ہے تو محض عارضی طور پر ملتی ہے اور اس کے بعد وہ رُوح پھر آواگون یعنی تناسخ کے چکر میں ڈال دی جاتی ہے کیونکہ آریہ صاحبان کے خیال میں محدود عمل کی جزا غیر محدود نہیں ہو سکتی۔علاوہ اس کے آریوں کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ خدا کا الہام صرف آریہ ورت تک محدود رہا ہے اور کوئی اور قوم اس نعمت سے مشرف نہیں ہوئی اور ان کا عقیدہ ہے کہ صرف و ید ہی وہ کتاب ہے جو ابتداء سے دنیا کو دی گئی اور پھر اُسے ابد تک کے لئے چشمہ ہدایت قرار دے دیا گیا اور اس کے بعد الہام کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا اور ان کا دعویٰ ہے کہ الہامی کتاب وہی ہوسکتی ہے جو ابتداء میں دی گئی ہو۔پھر اُن کا یہ خیال ہے کہ خدا گناہ کو معاف نہیں کرتا بلکہ ضرور ہے کہ با وجود تو بہ کے بھی انسان ہر بدعمل کی سزا بھگتے پھر دنیا کی عملی زندگی کے متعلق ان کا یہ خیال ہے کہ جب کسی مرد کے اولاد نرینہ نہ ہو تو اسے چاہئے کہ اولاد نرینہ کی خاطر اپنی عورت کو کسی غیر مرد کے ساتھ ہم بستر کرائے اور یہ فرض اُس وقت تک انجام دیتا ر ہے جب تک کہ اُس کے لڑکوں کی تعداد گیارہ کے عدد تک نہ پہنچ جائے اس مسئلہ کو یہ لوگ نیوگ کہتے ہیں۔یہ ہے خلاصہ ہندومت کے اس فرقہ کے معتقدات کا جو آج کل آریہ کہلاتا ہے اور جس کا یہ دعوی ہے کہ ہندوؤں میں سے صرف ہم ہی دید کی اصل تعلیم پر قائم ہیں اور باقی تمام فرقے جادہ صواب سے منحرف ہو چکے ہیں۔اور یہ فرقہ پنڈت دیا نند صاحب سرسوتی کو جنہوں نے ۱۸۸۳ء میں وفات پائی تھی اپنا مقتداء اور لیڈر سمجھا ہے۔اس تمہیدی نوٹ کے بعد ہم اس شاندار دفیعہ کا ذکر کرتے ہیں جو حضرت مرزا صاحب کی طرف سے اس گروہ کے مقابل میں کیا گیا پہلے ہم نقل اور عقل کی بحث کو لیتے ہیں اور پھر روحانی 132