تبلیغِ ہدایت — Page 134
کو پیچھا چھڑانا مشکل ہو گیا اور نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن والی حالت ہوگئی۔ناچار حضرت مرزا صاحب کو یہ پیغام بھیجا کہ اگر چہ ارواح حقیقت میں بے انت نہیں ہیں مگر تناسخ پھر بھی صحیح ہے۔ناظرین غور کریں کہ وید سے استنباط کر کے پنڈت جی ایک عقیدہ پیش کرتے ہیں اور عقیدہ بھی ایسا جو اصول مذہب کی پوزیشن رکھتا ہے مگر حضرت مرزا صاحب کی گولہ باری سے اپنے اس عقیدہ سے پیچھے ہٹ جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں اس سے زیادہ نمایاں فتح کیا ہوگی کہ آریہ سماج کا نامی گرامی لیڈر بلکہ بانی اس طرح کھلے میدان میں پیٹھ دکھاتا ہے۔یہ فتح ایسی بین فتح تھی کہ پنڈت شونرائن اگنی ہوتری ایڈیٹر ” برادر ہنڈ نے جو گوسوامی جی کے معتقد نہ تھے لیکن پھر بھی ایک ہندو تھے اور مخالفین اسلام میں سے تھے ”مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان اور آریہ سماج“ کے عنوان سے اپنے اخبار میں لکھا کہ ”جب مرزا صاحب نے مسئلہ مذکور اپنی بحث میں باطل ثابت کر دیا تو لاچار سوامی جی نے مرزا صاحب کو یہ پیغام بھیجا کہ حقیقت میں ارواح بے انت نہیں ہیں مگر تناسخ پھر بھی صحیح ہے۔دیکھو مکتوبات احمد یہ اور برادر ہند بابت جولائی ۱۸۷۸ء) اس کے بعد آریوں نے ارواح کے بے انت ہونے اور خدا کو اُن کی تعداد کاعلم نہ ہونے کا عقیدہ ترک کر دیا اور اس کی جگہ یہ عقیدہ قائم کیا کہ اگر چہ ارواح تعداد میں محدود ہیں لیکن چونکہ کوئی رُوح کامل مکتی دوامی طور پر حاصل نہیں کر سکتی اس لئے تناسخ کا چکر پھر بھی قائم رہتا ہے۔پنڈت دیانند صاحب کے خاموش ہو جانے کے بعد آریہ کیمپ کا ایک اور نامور جرنیل مقابلہ کے لئے آگے بڑھا۔یہ صاحب باو انرائن سنگھ سیکریٹری آریہ سماج امرتسر تھے۔شروع شروع میں انہوں نے بڑا جوش و خروش دکھایا اور جس میدان میں اُن کے مقتداء سوامی جی بھی ٹھہر نہ سکے تھے وہاں بھی قدم رکھنا چاہا، لیکن حضرت مرزا صاحب کی ایک دوضر بوں نے ہی اُن کو ٹھنڈا کر دیا اور وہ ایسے خاموش ہوئے کہ گویا کبھی بولے ہی نہ تھے مگر ان کی خاموشی سے بھی بڑھ کر ایک اور بات ہوئی۔وہ کیا تھی؟ وہ یہ تھی کہ یہی باوا صاحب جو اس وقت آریہ سماج کے ایک ممتاز اور نہایت سرگرم ممبر تھے آریہ سماج کے پلیٹ فارم سے الگ ہو کر اپنی اصل کمیونیٹی میں واپس آملے سُبحان اللہ! کیا عظیم الشان فتح ہے جو حضرت مرزا صاحب کے ذریعہ اسلام کو نصیب ہوئی! 134