تبلیغِ ہدایت — Page 118
سے بھاگے گا۔پس وہ کس طرح سامنے آتا؟ حضرت مرزا صاحب نے صرف عام تحریک پر ہی بس نہیں کی بلکہ پرائیویٹ طریق پر بھی بعض پادریوں کو غیرت دلائی اور پر زور تحریکیں کیں مگر کوئی پادری سامنے نہ آیا۔بٹالہ میں جو قادیان سے صرف گیارہ بارہ میل پر ہے اُس زمانہ میں پادری وائٹ برینٹ صاحب موجود تھے اُن کو بھی بہت جگایا مگر انہوں نے بھی کروٹ نہ بدلی۔اب دیکھو کہ یہ کیسی بین تجبت ملزمہ ہے جو اس قوم پر پوری کی گئی۔آخر ۱۸۹۳ء میں یہ ہوا کہ امرتسر کے پادریوں نے اس شرط کے مطابق تو فیصلہ منظور نہ کیا، لیکن علمی طور پر مناظرہ کرنا منظور کر لیا۔چنانچہ مسیحیوں کی طرف سے مسٹر عبد اللہ آتھم ای۔اے۔سی مناظر اور پادری ٹامس باول اور پادری ٹھا کر داس و غیرہ ان کے معاون مقرر ہوئے اور اسلام کی طرف سے حضرت مرزا صاحب مناظر قرار پائے اور بمقام امرتسر یہ مباحثہ شروع ہوا۔عیسائیوں کی طرف سے مسٹر مارٹن کلارک صدر جلسہ تھے اور مسلمانوں کی طرف سے شیخ غلام قادر صاحب فصیح صدر تھے پندرہ دن تک یہ مباحثہ جاری رہا۔اس مباحثہ میں غلبہ کس کو رہا ؟ اس سوال کے جواب میں ہمیں اپنی طرف سے کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں روئیداد جلسہ مفصل طور پر ”جنگ مقدس“ کے نام سے چھپ چکی ہے اس کے مطالعہ سے کسی عقلمند پرمخفی نہیں رہ سکتا کہ غالب کون رہا اور مغلوب کون؟ مگر دو باتیں اس مباحثہ میں خاص طور پر نوٹ کے قابل ہیں جو شخص انہیں مدنظر رکھ کر اس کتاب کا مطالعہ کرے گاوہ ایک عجیب حظ اٹھائے گا۔اول یہ کہ ہر مذہب کے دعوے اور دلیل کے متعلق حضرت مرزا صاحب نے ایک نہایت محکم اصول پیش کیا ہے جو سارے جھگڑے کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔مگر مسیحی صاحبان نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی اور نہ در اصل وہ توجہ کر سکتے تھے۔کیونکہ ایسا کرنے سے وہ بالکل بے دست و پارہ جاتے اس اصول کے متعلق ہم مفضل آگے چل کر لکھیں گے۔دوسری بات یہ ہے جسے ایک ذہین شخص محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ حضرت مرزا صاحب کی زبر دست جرح سے تنگ آکر کئی جگہ آتھم صاحب نے سوائے اس کے اپنے لئے کوئی مخلصی کی راہ نہیں دیکھی کہ معروف مسیحی عقیدہ کو چھوڑ کر اپنے کسی ذاتی خیال کی آڑ میں پناہ لے لیں چنانچہ کئی 118