تبلیغِ ہدایت — Page 119
جگہ اُن کے دعوے اور دلیلیں معرفت مسیحی عقیدوں کے خلاف نظر آتی ہیں اور کئی جگہ انہوں نے اپنا پہلو بھی بدلا ہے۔پس یہ بھی حضرت مرزا صاحب کے غلبہ کی ایک بین دلیل ہے ورنہ یہ تو ظاہر ہے کہ خصم خواہ کیسا بھی لاجواب ہو جاوے چپ نہیں ہوا کرتا۔غرض یہ مباحثہ اسلام کے لئے ایک نہایت درجہ کامیاب مباحثہ ثابت ہوا اور مسیحیوں کو شکست فاش نصیب ہوئی۔(دیکھو جنگ مقدس) اس کے بعد پادری فتح مسیح نے حضرت مرزا صاحب کے مقابل پر میدان میں آنا چاہا مگر ایسی منہ کی کھائی کہ پھر سر نہ اٹھایا۔ہاں اپنی بد باطنی کا ایک ریکارڈ چھوڑ گیا۔حضرت مرزا صاحب نے اُس کے اعتراضات کی دھجیاں اُڑادیں۔(دیکھونو ر القرآن ) اسکے بعد پھر کسی پادری کو یہ جرأت نہ ہوئی کہ آپ کے سامنے آتا مگر آپ نے اپنا کام جاری رکھا اور نور الحق۔سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب اور کتاب البریہ جیسی نہایت زبر دست کتابیں تصنیف فرما ئیں اور بالآخم 190 ء میں پنجاب کے لارڈ بشپ ریورنڈ جارج لیفر ائے لا ہور کو چیلنج دیکر عیسائیوں پر حجت پوری کی۔اس چیلنج میں آپ کی تحریک سے احمدیوں کی ایک جماعت نے بشپ صاحب کو ایک تحریری درخواست دی جس میں لکھا کہ چونکہ آپ اس ملک میں تمام مسیحیوں کے سردار ہیں اور آپ کا فرض منصبی بھی ہے کہ طالبانِ حق کی تسلی کرائیں اور آپ ایک طرح سے مسلمانوں کو مباحثہ کا چیلنج بھی دے چکے ہیں لہذا ہم آپ کو آپ کے یسوع مسیح کی قسم دے کر کہتے ہیں کہ اس موقعہ پر پیچھے نہ ہٹیں اور حق و باطل کا فیصلہ ہونے دیں اور اسلام اور مسیحیت کی صداقت کے متعلق حضرت مرزا صاحب کے ساتھ بمقام لاہور ایک با قاعدہ مباحثہ کر کے مخلوق خدا پر احسان فرما ئیں۔غرض بڑے جوش دلانے والے الفاظ میں بشپ صاحب کو مباحثہ کی طرف بلایا گیا مگر بشپ صاحب کو ہمت نہ ہوئی اور انہوں نے حیلے بہانے کر کے بات ٹال دی۔( دیکھو ریویو آف ریلیجنز قادیان) اس کے بعد ۱۹۰۲ء میں حضرت مرزا صاحب نے یورپ اور امریکہ میں تکمیل تبلیغ اسلام کے لئے ایک انگریزی رسالہ ریویو آف ریلیچر“ جاری کروایا اور اس میں صداقتِ 119