تبلیغِ ہدایت — Page 117
کثرت کے ساتھ تقسیم کیا اور تمام بڑے بڑے آدمیوں کو جن میں شہنشاہ ، بادشاہ، جمہوری سلطنتوں کے پریذیڈنٹ اور پھر مد تیر ان ملکی اور سیاسی لیڈر اور فلاسفر اور مذہبی پیشوا بھی شامل تھے بذریعہ رجسٹر ڈ خطوط بھجوایا اور گو اس اشتہار میں سب مذاہب کے لوگ مخاطب تھے لیکن مسیحی مذہب کے متبعین میں خصوصیت کے ساتھ تقسیم کیا گیا۔اس اشتہار میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے مسیح ناصری کے قدم پر اس صدی کا مجد د بنا کر بھیجا ہے اور میں سب دنیا کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ خدا تک پہنچانے والا مذہب صرف اسلام ہی ہے جو شخص میرے اس دعوئی کی تصدیق چاہے وہ مجھ سے ہر طرح تسلی کر سکتا ہے اور حق کے طالبوں کو خدائی نشانات بھی دکھائے جاویں گے۔وغیرہ وغیرہ ( دیکھو تبلیغ رسالت یعنی مجموعہ اشتہارات حضرت مرزا صاحب جلد اول) اس اشتہار کے قریب کے زمانہ میں ہی آپ نے ایک مطبوعہ خط بھی مشہور پادری صاحبان و آریه صاحبان و بر همو صاحبان و نیچر کی صاحبان و مخالف مولوی صاحبان کے نام ارسال کیا اور اس میں لکھا کہ جو شخص اسلام کی صداقت میں کوئی شبہ رکھتا ہو یا جسے میرے دعویٰ الہام ومجددیت کے متعلق شک ہو یا جو مطلقاً خوارق وغیرہ کا منکر ہو تو میں خدا سے وعدہ پا کر اُسے دعوت دیتا ہوں کہ اگر وہ طالب حق بن کر ایک سال تک میرے پاس قادیان میں آکر قیام کرے گا تو ضرور کوئی نہ کوئی خدائی نشان دیکھ لے گا اور اگر اس عرصہ میں کوئی خارق عادت نشان ظاہر نہ ہو تو میں بطریق حرجانہ یا جرمانہ دوسوروپیہ ماہوار کے حساب سے مبلغ چوبیس سو روپیہ نقد ایسے صاحب کے حوالے کر دوں گا۔وہ جس طرح چاہیں اپنی تسلی کرالیں۔(دیکھو تبلیغ رسالت ) آب دیکھو یہ طریق فیصلہ کیسا راستی پر مبنی تھا۔پادری صاحبان اپنے میں سے کسی کو منتخب کر کے ایک سال کے لئے قادیان بھجوا دیتے اور نہیں تو انہیں اپنے مشن کی امداد کے لئے ڈھائی ہزار رو پید ہی مل جاتا اور اسلام کی شکست اور اُن کی فتح الگ ہوتی اور کم از کم حضرت مرزا صاحب اور ان کے معتقدین کے منہ تو ضرور بند ہو جاتے۔مگر خوب یا درکھو کہ باطل حق کے سامنے آنے سے ہمیشہ گھبراتا ہے سوائے اس کے کہ اس کی اجل اسے کھینچ کر ادھر لے آئے اور یہاں تو مخبر صادق نے پہلے یہ خبر دے رکھی تھی کہ درقبال مسیح موعود کے سامنے آنے سے نمک در آب کی طرح پچھلے گا اور اُس 117