تبلیغِ ہدایت — Page 47
یعنی اللہ تعالٰی وعدہ کرتا ہے اُن لوگوں سے جو تم میں سے پختہ ایمان لائے اور صلاحیت والے اعمال بجالائے کہ ضرور ضرور انہیں دنیا میں خلیفہ بنائے گا جس طرح کہ اُس نے ان لوگوں کو خلیفہ بنایا جو اُن سے پہلے گزر چکے اور وہ ان کے اس دین کو جو خدا نے اُن کے لئے پسند کیا ہے دنیا پر قائم کر دیگا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے وعدہ فرماتا ہے کہ وہ اُن میں اُسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلفاء بنائے گا جس طرح اس نے بنی اسرائیل میں سے حضرت موسی کے خلفاء بنائے اور ان کے ذریعہ سے دین کو تقویت پہنچائے گا۔اب یہ ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں بہت سے خلفاء بھیجے جو تورات کی خدمت کرتے تھے۔یہ سلسلہ موسوی خلفاء کا حضرت مسیح ناصری کے وجود میں اپنے کمال اور انتہا کو پہنچ گیا۔مسلمانوں کو بھی اسی قسم کے خلفاء کا وعدہ دیا گیا تھا اور ٹھیک جس طرح موسوی سلسلہ کا آخری خلیفہ اسرائیلی مسیح ہوا اسی طرح یہ مقدر تھا کہ آخری ایام میں مسلمانوں میں بھی ایک مسیح بھیجا جائے گا جو اسلامی سلسلہ خلفاء کے دائرہ کو پورا کرنے والا اور کمال تک پہنچانے والا ہو گا۔گویا اس طرح ان دونوں سلسلوں میں اللہ تعالیٰ نے مشابہت بیان کی ہے جیسا کہ لفظ گیا سے ظاہر ہے۔اب اہلِ علم جانتے ہیں کہ مشابہت مغایرت کو بھی چاہتی ہے پس ثابت ہوا کہ محمدی تسلسلہ کا مسیح یعنی آخری خلیفہ موسوی سلسلہ کے مسیح سے جدا وجود رکھے گا اور گو وہ اس کا مثیل ہو گا مگر وہ اس کا عین نہیں ہوگا بلکہ اس سے جدا ہوگا۔علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مِنكُم ( تم میں سے ) کا لفظ رکھ کر سارے جھگڑے کی جڑ کاٹ دی ہے اور صاف بتا دیا ہے کہ مسلمانوں میں جو خلفاء ہو نگے وہ مسلمانوں میں سے ہی ہونگے اور کوئی شخص باہر سے نہیں آئے گا تو اب پھر یہ کس قدر ظلم ہے کہ اپنی ضد پوری کرنے کے لئے محمدی مسلسلہ کا آخری اور سب سے عظیم الشان خلیفہ بنی اسرائیل میں سے مبعوث کیا جانا خیال کیا جاوے اور اس طرح خدا کے وعدے کو جو اس نے منگم کے لفظ میں کیا ہے ردی کی طرح پھینک دیا جائے۔47