تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 46 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 46

کر دی جاتی ہے۔اسی طرح اگر کسی جگہ حضرت مسیح کے متعلق خلق یعنی پیدا کرنے کا لفظ آ گیا تو اسے ہمارے بعض مفسرین نے حقیقی معنوں پر محمول کر لیا۔حالانکہ ایسے الفاظ استعارہ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔یہی حال نزول مسیح کے مسئلہ میں ہوا۔عیسائی مذہب میں پہلے سے حضرت عیسی کی آمد ثانی کی خبر موجود تھی جسے عیسائی لوگ خود مسیح کا آنا سمجھتے تھے جب یہ لوگ اسلام میں آئے تو انہوں نے اسلام میں بھی ایک مسیح کی آمد کی خبر پائی جس سے انہوں نے فورا خیال کر لیا کہ ہو نہ ہو یہ وہی خبر ہے جو پہلے سے عیسائیت میں موجود ہے خیر سے آگے لفظ نزول بھی مل گیا بس پھر کیا تھا اس خیال پر پختہ طور پر جم گئے کہ خود اسرائیلی مسیح ہی آخری دنوں میں نازل ہوگا۔بعد میں جو مقلد لوگ آئے ان کو اتنی جرات کہاں کہ آبا ؤ اجداد کے خلاف کوئی کلمہ منہ پر لائیں۔قرآن کھول کر دیکھو۔شروع سے عوام کو یہی آواز رہی ہے کہ بَلْ نَتَّبِعْ مَا الْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا (سوره بقره ع۲۱) یعنی ہم تو اسی راستہ پر چلیں گے جس پر ہمارے باپ دادا چلتے آئے ہیں خواہ وہ غلط اور باطل ہی ہو۔موعود مسیح نے اسی اُمت میں سے ہونا تھا یہاں تک ہم نے بفضلِ خدا یہ ثابت کیا ہے کہ قرآن شریف اور حدیث کی رُو سے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ چکی ہے کہ حضرت مسیح ناصری آسمان پر زندہ نہیں اُٹھائے گئے بلکہ فوت ہو چکے ہیں اور یہ کہ حیات مسیح کا مسئلہ بعد میں مسلمانوں کے اندر داخل ہوا ہے ورنہ صحابہ کرام نے تو اپنے سب سے پہلے اجماع میں فیصلہ فرما دیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے جتنے نبی گذرے ہیں وہ سب فوت ہو چکے ہیں۔اب میں یہ بتاتا ہوں کہ قرآن شریف اور حدیث سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ جس مسیح کا وعدہ دیا گیا ہے وہ اسی اُمت میں سے ہوگا۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصُّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيْمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ (سوره نورع) 46