تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 45 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 45

لو کہ یہ لوگ جو ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں اسلام میں داخل ہوتے تھے۔وہ گو اصولی طور پر اسلام کی صداقت کو مان کر ہی مسلمان بنتے تھے، لیکن چونکہ خیالات میں یک لخت پورا انقلاب نہیں ہو جاتا اس سے تفصیلی امور میں یہ لوگ بعض عیسائی خیالات اپنے ساتھ لاتے تھے جن کا ایک دن میں دل سے نکل جانا ممکن نہ تھا۔ان لوگوں کے دلوں سے مسیح ناصری کی بے جا محبت شرک کے مقام سے تو بے شک نیچے گرگئی تھی لیکن ابھی گلی طور پر دل سے نہیں نکلی تھی۔اس لئے قرآن شریف اور احادیث میں جہاں کہیں مسیح کا ذکر آیا وہاں ان لوگوں نے طبعاً حاشئے چڑھائے اور بعض مسلمان بھی آہستہ آہستہ ان خیالات سے متاثر ہوتے گئے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے بعض گذشتہ مفسرین قرآن شریف کی تفسیر کرتے ہوئے خواہ مخواہ اسرائیلی قصے کہانیاں بیان کرنے لگ جاتے ہیں۔عدم رجوع موتی مثلاً قرآن شریف میں حضرت مسیح کے متعلق آتا ہے کہ انہوں نے مردے زندہ کئے۔اس کے صاف یہ معنے تھے کہ جو لوگ روحانی طور پر مردہ تھے ان کے اندر مسیح نے زندگی کی رُوح پھونکی اور یہی وہ کام ہے جس کے لئے انبیاء مبعوث ہوتے ہیں چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق قرآن شریف میں لکھا ہے :- يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا اسْتَجِيْبُوا لِلَّهِ وَلِلرَسُوْلِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِنِكُمْ۔(سورہ انفال ) یعنی ” اے مومنو! تم اللہ کی آواز پر لبیک کہا کرو اور رسول کی آواز پر بھی لبیک کہو جبکہ وہ تمہیں زندہ کرنے کے لئے بلائے“۔اب دیکھو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق کس طرح صریح طور پر زندہ کرنے کا لفظ آیا ہے مگر یہاں مسلمہ طور پر روحانی زندگی مراد لی جاتی ہے، لیکن جب مسیح کے متعلق یہی لفظ آتا ہے تو وہاں حقیقی مردوں کو زندہ کرنا سمجھ لیا جاتا ہے اور یہ سب کچھ مسیحی خیالات کےلوگوں کے اثر کا نتیجہ ہے حالانکہ قرآن شریف کی صریح تعلیم کی رُو سے حقیقی مردہ کا اسی دنیا میں زندہ ہو جانا ناممکن ہے جیسا کہ فرمایا: - وَمِن وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ۔(سوره مومنون ۶) یعنی ” جو لوگ مر جاتے ہیں اُن کے اور اس دنیا کے درمیان قیامت تک کے لئے ایک روک حائل 45