تبلیغِ ہدایت — Page 44
عقیدہ پر قائم تھے بلکہ ہم ان پر حسن ظن رکھتے ہیں کہ وہ بھی قرآنی تعلیم کے ماتحت وفات مسیح کے قائل ہو نگے۔پھر یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ سب سے پہلا اجماع جو صحابہ کرام کا ہوا وہ اسی بات پر تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے بھی نبی گزرے ہیں وہ سب فوت ہو چکے ہیں اور صحابہ کے زمانہ کے بعد تو امت محمدیہ اس کثرت کے ساتھ دُور دراز ملکوں میں پھیل گئی کہ صحابہ کے بعد کے زمانہ میں کسی مسئلہ کے متعلق اجماع کا دعویٰ کرنا ہی محال ہے اسی لئے امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی مسئلہ میں اجماع کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔(دیکھو مسلم الثبوت وغیرہ کتب اصول) پس یہ بات بالکل غلط ہے کہ اس باطل عقیدہ پر امت محمدیہ کا کبھی اجماع رہا ہے بلکہ حق یہ ہے کہ اگر کبھی کسی عقیدہ پر امت کا اجماع ہوا ہے تو وہ وفات مسیح ہی کا عقیدہ ہے کما مر۔ہاں یہ درست ہے کہ کئی صدیوں سے مسیح ناصری کی حیات کا مسئلہ عام طور پر مسلمانوں کے اندر رائج ہے مگر یہ بات ہمارے خلاف ہرگز کوئی حجت نہیں کیونکہ بسا اوقات غلط عقائد پھیل جایا کرتے ہیں۔دیکھو آج مسلمانوں کے بہتر فرقے ہو رہے ہیں۔جن میں آپس میں کافی اختلاف ہے اب ظاہر ہے کہ وہ سب کے سب تو سچے ہو نہیں سکتے کیونکہ اگر بچے ہوں تو اہم امور میں اختلاف نہیں ہو سکتا۔اختلاف سے ظاہر ہے کہ بعض غلط عقائد مسلمانوں کے اندر آگئے ہیں۔یہ غلط عقائد کہاں سے آگئے؟ قرآن شریف اور حدیث نے تو یقینا صحیح عقائد ہی بیان کئے ہیں۔پھر ان کے ہوتے ہوئے غلط عقائد کیسے آگئے ؟ جو جواب اس سوال کا ہمارے مخالف دیں گے وہی ہماری طرف سے بھی سمجھ لیں لیکن اب حقیقی جواب بھی سُن لیجئے۔حیات مسیح کا عقیدہ اسلام میں کہاں سے آیا ہر شخص جانتا ہے کہ جب اسلام کی ترقی کا زمانہ تھا اس وقت عیسائی لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوئے اور یہ ایک فطری تقاضا ہے کہ انسان اپنے خیالات کو آہستہ آہستہ چھوڑتا ہے۔مثل مشہور ہے کہ رام رام نکلتے نکلتے ہی نکلے گا اور اللہ کا نام داخل ہوتے ہوتے ہی ہوگا۔اسی پر قیاس کر 44