تبلیغِ ہدایت — Page 43
ہے۔سلف صالحین میں کئی بزرگ ایسے گزرے ہیں جنہوں نے صاف طور پر وفات مسیح“ کا اقر رکیا ہے اور صحابہ کرام بھی اسی عقیدہ پر قائم تھے چنانچہ حضرت ابن عباس جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چازاد بھائی تھے اور جن کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دُعا فرمائی تھی کہ ان کو قرآن شریف کا خاص فہم عطا ہو انہوں نے مُتَوَفیگ کے معنے ممیٹگ بیان کر کے اپنے عقیدہ کا صاف اظہار کر دیا ہے کہ مسیح فوت ہو چکے ہیں۔( بخاری کتاب التفسیر ) پھر امام بخاریؒ جو محدثین کے مسلمہ امام ہیں انہوں نے اپنی صحیح میں اس روایت کو درج کر کے اپنی طرف سے بھی اس پر مہر لگا دی ہے اور اپنے عقیدہ کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔صحابہ کے بعد تابعین کی جماعت ہے وہ بھی وفات مسیح کی قائل تھی۔چنانچہ مجمع الجار ( مجمع البجار جلد ۱ صفحہ ۲۸۶) میں لکھا ہے کہ والاکثر ان عیسی علیه السلام لم يمت و قال مالک مات۔یعنی موجودہ زمانہ کے اکثر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت عیسی قوت نہیں ہوئے لیکن امام مالک فر ما یا کرتے تھے کہ وہ فوت ہو چکے ہیں۔اس حوالہ میں ایک اور بات بھی قابل غور ہے روہ یہ کہ صاحب مجمع البحار یہ نہیں کہتے کہ ساری اُمت کا یہ مذہب ہے کہ حضرت عیسی فوت نہیں ہوئے بلکہ صرف یہ کہتے ہیں کہ اکثر لوگوں کا یہ مذہب ہے۔گویا اُن کے زمانہ تک بھی یہ عقیدہ ایسا عام نہیں ہوا تھا کہ ساری امت کا مذہب کہلا سکتا۔پھر امام ابن حزم کی نسبت لکھا ہے کہ و تمسک ابن حزم بطاهر الاية وقال بموته (دیکھو کمالین حاشیہ جلالین مطبع مجتبا ئی صفحہ ۱۰۹) یعنی ”امام ابن حزم نے آیت کے ظاہری معنوں سے استدلال کرتے ہوئے حضرت مسیح کی وفات بیان کی ہے۔چنانچہ امام ابن حزم نے اپنی مشہور کتاب ” محلی ، میں صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ حضرت عیسی فوت ہو چکے ہیں۔( محلی جلد اصفحہ ۲۳) اور ابن حزم کوئی معمولی آدمی نہیں تھے بلکہ بہت بڑے پایہ کے امام تھے۔اسی طرح فرقہ معتزلہ کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح “ فوت ہو چکے ہیں۔مجمع البیان جلد ازیر آیت فلما تو فیتنی) یہ چند نام ہم نے صرف مثال کے طور پر لکھے ہیں ورنہ اور بہت سے بزرگ ایسے گزرے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح کی وفات کو مانا ہے اور اکثر علماء سلف ایسے گذرے ہیں۔جن سے اس مسئلہ میں کوئی رائے مروی نہیں۔پس ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ کس 43