تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 42 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 42

صاف اور غیر تاویل طلب الفاظ میں بتارہی ہیں کہ حضرت مسیح فوت ہو چکے ہیں تو اس مضمون پر اور جس قدر بھی آیات اور احادیث ہوں اُن تمام کو ان کے ماتحت لانا چاہئے۔مگر انشاء اللہ ہمیں اس بات کی ضرورت ہی نہ ہوگی۔کیونکہ کوئی قرآنی آیت ایسی نہیں ہے جس میں یہ بتایا گیا ہو کہ حضرت مسیح اب تک زندہ موجود ہیں۔اگر کوئی ہے تو اُسے پیش کیا جائے۔مگر سارا قرآن شریف دیکھ جاؤ ایک آیت بھی ایسی نہیں پاؤ گے جس میں حیات مسیح کا ذکر ہو لیے اسی طرح کوئی صحیح حدیث ایسی نہیں ہے جس میں مسیح کی حیات کا ذکر ہو۔ہاں اس کے خلاف ایسی کئی احادیث ہیں جن میں صاف طور پر مسیح کی وفات کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔حیات مسیح“ کے عقیدہ پر کبھی اجماع نہیں ہوا اب سوال ہوتا ہے کہ جب قرآن شریف اور احادیث صاف طور پر مسیح کی وفات کی شہادت دے رہی ہیں تو ان کی حیات کے غلط عقیدہ پر کس طرح تمام امت کا اجماع ہو گیا ؟ اس کے جواب میں یادرکھنا چاہئے کہ یہ بالکل غلط ہے کہ اس باطل عقیدہ پر کبھی تمام امت کا اجماع ہوا ا ہمارے مخالفین آیت وَانْ مَنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيَؤْ مِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ( سوره نساء ع ۲۲) اور إِنَّهُ لَعِلْمُ لِلسَّاعَةِ ( سورہ زخرف ع۶) سے مسیح ناصری کی حیات ثابت کرنے کی بیسود کوشش کیا کرتے ہیں لیکن جو شخص خص ان آیات پران کے سیاق و سباق کو مد نظر رکھ کر تدبر کرے گا اسے معلوم ہو جائے گا کہ ان آیات کو مسیح کی حیات سے کوئی دور کا تعلق بھی نہیں ہے کیونکہ مقدم الذکر آیت میں تو صرف یہ بتایا گیا ہے کہ تمام اہل کتاب اپنی موت سے پہلے یہی یقین رکھیں گے کہ مسیح کو قتل کر دیا گیا تھا۔کیونکہ اس آیت سے پہلے ان کے اسی خیال کا ذکر کیا گیا ہے (جیسا کہ فرمایا وَ قَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ ) ہاں موت کے بعد بے شک ان پر حقیقت حال منکشف ہو جائے گی اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ قَبلَ مَوْتِہ کی دوسری قرأت جمع کے صیغہ کی صورت میں قبلَ مَوْتِھم بیان کی گئی ہے۔(دیکھو ابن جریر جلد ۶ ) جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اس جگہ موت سے مسیح کی موت مراد نہیں بلکہ اہل کتاب کی اپنی موت مراد ہے اور مؤخر الذکر آیت کو بھی حیاتِ مسیح کے عقیدہ سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ اس میں یا تو بروزی صورت میں مسیح کی آمد ثانی کی طرف اشارہ ہے جو قرب قیامت کی مسلمہ علامت ہے اور یا حضرت مسیح ناصری کے وجود کو بوجہ ان کے بے باپ پیدا ہونے کے قیامت کی دلیل میں پیش کیا گیا ہے جیسا کہ اگلے فقرہ فَلَا تَمْتَونَ بِهَا میں اشارہ پایا جاتا ہے۔پس ان دونوں آیتوں میں سے کوئی بھی حضرت مسیح ناصری کی حیات ثابت نہیں کرتی۔وھو المراد۔42