تبلیغِ ہدایت — Page 240
خاتم النبین تو ضرور کہا کرو لیکن لا نبی بعدہ نہ کہا کرو۔گویا باالفاظ دیگر یہ فرما یا کہ حدیث لا نبٹی بعدی کے وہ معنے سمجھا کر و جو آیت خاتم النبیین کے مطابق ہیں اور وہ یہی معنے ہیں کہ آپ کے بعد صاحب شریعت نبی نہیں آسکتا بلکہ جو نبی بھی ہو گا وہ آپ کا شاگر داور خادم اور ظلی اور امتی نبی ہوگا۔مگر جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں ہم تو اس بات کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ واقعی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ آپ کی نبوت کا دامن قیامت تک پھیلا ہوا ہے۔پس اگر کوئی ایسا نبی مبعوث ہو جو اپنی نبوت کو آپ کی نبوت کاظل قرار دے اور اپنے آپ کو آپ کے شاگردوں اور خادموں میں شمار کرے تو یقیناً اُس کی نبوت آپ کی نبوت سے باہر نہیں سمجھی جاسکتی اور نہ اس کی نبوت صحیح معنی میں آپ کی نبوت کے بعد کہلاسکتی ہے کیونکہ آپ کی نبوت کا دامن اس نبوت کے دامن سے منقطع نہیں ہوتا بلکہ آپ کی نبوت اس کے آنے کے بعد بھی اُسی طرح جاری رہتی ہے پس ایسے نبی کے آنے کے باوجود آپ واقعی اور در حقیقت آخری نبی ہیں۔حديث لَوْ كَانَ بَعْدِى نَبِيَّا لَكَانَ عُمَرُ کی تشریح پھر ایک اور حدیث پیش کی جاتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيًّا لَكَانَ عُمَرُ۔(مشکوۃ) یعنی اگر میرے بعد کوئی نبی ہوسکتا تو عمر ضرور نبی ہوتا۔اس حدیث سے یہ مطلب نکالا جاتا ہے کہ آپ کے بعد مطلقاً کوئی نبی نہیں ہوسکتا کیونکہ اگر نبی ہوسکتا تو بقول آپ کے حضرت عمر ضرور نبی ہو جاتے۔مگر یہ ایک دھوکا ہے جو اسلامی تاریخ کی ناواقفی سے پیدا ہوا ہے جو شخص حضرت عمر کی سوانح کا مطالعہ کرے گا وہ فورا سمجھ لے گا کہ اس حدیث سے کیا مراد ہے دراصل بات یہ ہے کہ حضرت عمر ایک بہت بڑے مقنن انسان تھے اور قانون بنانے اور اس کی اونچ نیچ کو سوچنے اور حسن و قبح کو پر کھنے کا اُن میں خاص مادہ تھا اور یہ ایک ایسا مادہ ہے جو صرف خاص خاص لوگوں میں ہوتا ہے۔کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ویسے تو بڑے عقلمند لائق فائق اور ذی علم ہوتے ہیں، لیکن وضع قانون کے مادہ سے محروم اور کورے ہوتے ہیں۔اسی لئے جب 240