تبلیغِ ہدایت — Page 241
اُن پر کوئی ایسا فرض عائد ہوتا ہے جہاں ایک واضع قانون کی سی طبیعت درکار ہوتی ہے تو وہ نا کام رہتے ہیں۔مگر حضرت عمررؓ میں یہ وصف بہت نمایاں طور پر پایا جاتا تھا۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ کئی دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک بات میں دوسرے صحابہؓ نے ایک رنگ میں مشورہ دیا اور حضرت عمر نے دوسرے رنگ میں مشورہ دیا۔پھر جس طرح حضرت عمرؓ نے رائے دی تھی اُسی کے مطابق کلام الہی نازل ہوا۔گویا ان معاملات میں حضرت عمر کی طبع رسا ہمیشہ ٹھیک نقطہ پر پہنچتی تھی۔( دیکھو بخاری و مسلم وزرقانی وغیرہ) پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوسکتا تو عمر ضرور نبی ہوتا اس سے صرف یہ مراد ہے کہ اگر میرے بعد کوئی صاحب شریعت نبی ہو سکتا تو عمر میں ضرور یہ مادہ موجود تھا کہ وہ صاحب شریعت بن جاتا۔ان معنوں کی تائید اس طرح بھی ہوتی ہے کہ اہلسنت والجماعت کا یہ مسلمہ عقیدہ ہے کہ صحابہ کرام میں حضرت ابو بکر سب سے افضل تھے۔پس اگر اس حدیث میں نبی سے عام نبی مراد ہوتا تو یقیناً حضرت ابوبکر اس بات کے زیادہ حقدار تھے کہ اُن کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسے الفاظ استعمال فرماتے لیکن ان کو چھوڑ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عمرؓ کے متعلق یہ الفاظ استعمال فرمانا صاف بتا تا ہے کہ اس جگہ حضرت عمر کی کسی ایسی صفت کی طرف اشارہ مقصود ہے جس میں وہ ایک جزوی فضیلت کے رنگ میں حضرت ابوبکر سے بھی بڑھے ہوئے تھے اور وہ یہی قانون سازی کی صفت تھی۔ان حالات میں حدیث زیر بحث کے صرف یہ معنے ہونگے کہ اگر میرے بعد کوئی صاحب شریعت نبی ہو سکتا تو عمر میں ضرور ایسا مادہ موجود تھا۔وہوالمراد۔حديث لَمْ يَبقَ مِنَ التَّبَوَةِ إِلَّا الْمُبَشِرَاتِ کی تشریح پھر ایک اور حدیث ہے جو اس بارہ میں ہمارے مخالفوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتِ ( بخاری جلد ۴ ابواب التعبیر ) یعنی نبوت میں سے اب صرف مبشرات باقی رہ گئی ہیں۔“ 241