تبلیغِ ہدایت — Page 239
کثرت کے ساتھ ملتی ہیں کہ ایک عام بات کہی جاتی ہے اور بظاہر اس میں کوئی شرط یا استثنا نہیں پایا جاتا لیکن دراصل وہ مشروط ہوتی ہے اور کہنے والے نے کسی خاص جہت یا خاص پہلو کو مدنظر رکھ کر کہی ہوتی ہے۔پس یہاں بھی ضروری نہیں کہ لا نبی بعدی اورانا آخر الانبیاء وغیرہ کے الفاظ مطلق اور عام مانے جائیں۔بلکہ حق یہ ہے کہ جیسا دوسرے دلائل سے ظاہر ہوتا ہے یہ الفاظ مقید اور محدود ہیں اور ان سے مراد یہ ہے کہ میرے بعد کوئی میری طرح کا صاحب شریعت نبی نہیں ہوگا اور یہ کہ صاحب شریعت نبیوں میں سے میں آخری نبی ہوں اور میری شریعت آخری شریعت ہے۔چنانچہ ایک دوسری حدیث ہمارے ان معنوں کی تائید کرتی ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں:۔قولوا انه خاتم الانبياء ولاتقولو الا نبی بعدہ۔(در منثور جلد ۵ و تکمله مجمع الجار صفحه ۸۵) یعنی ” اے مسلمانو! تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ تو بے شک کہا کرو کہ آپ خاتم النبیین ہیںمگر یہ نہ کہا کرو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔“ اس حدیث سے یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ لا نبی بعدی کے یہ معنے نہیں ہیں کہ آپ کے بعد مطلقا کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا۔بلکہ اس سے صرف خاص قسم کے نبی کا آنا مراد ہے۔یعنی یہ کہ آپ کے بعد کوئی صاحب شریعت نبی نہیں آئے گا۔یہ روایت خوب غور کرنے کے قابل ہے۔کیونکہ اس سے لا نبی بعدی والی حدیث کی پوری حقیقت منکشف ہو جاتی ہے ظاہر ہے کہ فقرہ لا نبی بعدی یعنی ” میرے بعد کوئی نبی نہیں‘ کے امکانا دو ہی معنے ہو سکتے ہیں یا تو اس کے یہ معنے ہیں کہ آپ کے بعد مطلقا کسی قسم کا نبی بھی نہیں آسکتا اور یا اس کے یہ معنے ہیں کہ آپ کے بعد کسی خاص قسم کا نبی بھی نہیں آسکتا۔یعنی صاحب شریعت نبی نہیں آسکتا لیکن چونکہ الفاظ لا نبی بعدی کے متبادر معنے جو فوراً ذہن میں آتے ہیں یہی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہو گیا ہے اور اب آپ کے بعد کسی قسم کا نبی بھی نہیں ہو سکتا اور دوسرے معنے سوچنے سے اور قرائن پر نظر ڈالنے سے ذہن میں آتے ہیں۔اس لئے حضرت عائشہ نے مسلمانوں کو ایک غلط عقیدہ سے بچانے کی غرض سے یہ فرما دیا کہ تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو 239