تبلیغِ ہدایت — Page 204
دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے زیادہ کیا لکھا جائے جود یکھتے ہیں وہ جانتے ہیں۔ایمان کی تیسری علامت تیسری علامت یہ بیان ہوئی تھی کہ مومن تبلیغ حق میں مصروف رہتا ہے اور اُسے گویا ہر وقت یہ دھن لگی رہتی ہے کہ اسلام کی خوبیاں لوگوں تک پہنچائے اور دنیا سے باطل کو مٹانے اور حق کو قائم کرنے اور تبلیغ حق کے لئے اپنے وقت اور اپنے مال کو قربان کرنے سے دریغ نہ کرے اور جب اسلام پر کوئی حملہ ہو تو فوراً اس کے رڈ کے لئے کمر بستہ ہو جائے اب دیکھو اس علامت سے بھی احمد یہ جماعت کا ایمان اظہر من الشمس ہے ہر احمدی ایک سرگرم مبلغ نظر آئے گا اگر کوئی شخص کسی آزاد پیشہ میں ہے تو وہیں اس کا تبلیغی کام جاری ہوگا۔تاجر ہے تو اپنے ملنے والوں کو حق پہنچا تا ہوگا۔زمیندار ہے تو اپنے حلقہ میں ہی جہاد فی سبیل اللہ میں مصروف ہوگا۔غرض احمد یوں میں ہر شخص اپنی اپنی جگہ اسلام کی خدمت میں لگا ہوا ملے گا۔طالب علم ہے تو وہ مبلغ ہے۔استاد ہے تو وہ مبلغ ہے خادم ہے تو وہ مبلغ ہے۔آقا ہے تو وہ مبلغ ہے۔ناخواندہ ہے تو وہ مبلغ ہے۔عالم ہے تو وہ مبلغ ہے۔بچہ ہے تو وہ مبلغ ہے۔بوڑھا ہے تو وہ مبلغ ہے۔مرد ہے تو وہ مبلغ ہے۔عورت ہے تو وہ مبالغ ہے۔غرض جو بھی سچا احمدی ہے خواہ وہ کچھ بھی ہو مگر مبلغ ضرور ہے گذشتہ دنوں ہی کی بات ہے کہ جب ہنر رائل ہائی نس پرنس آف ویلز ہندوستان تشریف لائے تو عدم تعاون والوں کو یہ فکر تھا کہ کوئی ان کو دیکھنے تک نہ جائے جو لوگ تعاون کا دم بھرتے تھے اُن کی یہ آرزو تھی کہ شہزادہ والا تبار کو دیکھیں اور ہو سکے تو اُن سے ملاقات بھی کریں۔کوئی خوش آمدید کا ایڈریس پیش کریں اور کوئی جشن اور میلے قائم کریں کوئی تماشے اور نمائشیں دکھائیں یا کوئی اور عجیب عجیب منظر پیش کریں۔ہر چند کہ یہ جذ بہ بھی چونکہ اظہار محبت و احترام کے لئے تھا اس لئے قابل قدر تھا۔مگر ذرا دیکھو کہ احمدیہ جماعت کو اس موقعہ پر کیا سوجھتی ہے۔جب وہ سنتے ہیں کہ شہزادہ عالی جاہ ہمارے وطن میں تشریف لاتے ہیں تو سب سے پہلا خیال جو اُن کو آتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ ایک بہت عمدہ موقعہ ہے آؤ ہم اس موقعہ پر شہزادہ کو حق کی طرف دعوت دیں چنانچہ با وجود تنگی وقت کے قریبا بتیس ہزار احمدی 204