تبلیغِ ہدایت — Page 203
مجموعی نہایت اعلیٰ نمونہ رکھتی ہے۔پھر ایک اور بات بھی ہے جو یا درکھنی چاہئے اور جو ایک صاحب دل کو بڑا لطف دے سکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر ہم احمدیہ جماعت کے افراد پر نظر ڈالیں اور غور سے ان کا مطالعہ کریں تو صاف نظر آتا ہے کہ جماعت احمدیہ میں سے وہ لوگ جن کو حضرت مرزا صاحب کی صحبت کا زیادہ موقعہ ملا ہے۔وہ دوسروں کی نسبت جن کو اُن سے کم موقعہ میسر آیا ہے یقینا بحیثیت مجموعی حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں بہت زیادہ ترقی یافتہ ہیں ان لوگوں کی پیشانی پر وہی نور ایمان اور وہی نور اخلاق چمکتا نظر آتا ہے جو صحابہ کرام میں پایا جاتا تھا۔اُن کی ہر حرکت و سکون سے ایمان و عرفان کی کرنیں پھوٹتی ہیں یہ لوگ اگر دن کے وقت میدانِ خدمت دین کی صف اول میں نظر آئیں گے تو رات کو خدائی دربار میں کمر بستہ کھڑے دکھائی دیں گے جیسا کہ خود خدا نے بھی فرمایا ہے کہ ثُلَّةٌ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ ثُلَّةٌ مِنَ الْآخَرِينَ (سورۃ واقعہ ع ۲ ) یعنی ” جس طرح نیک لوگوں کی ایک بڑی جماعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود ہے اسی طرح ایک بڑی جماعت آخرین میں بھی پائی جائیگی۔اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِيْنَ_امين_ ایمان کی دوسری علامت دوسری علامت ایمان کی یہ ہے کہ مؤمن غیرت ایمانی دکھاتا ہے اور ایمان کے خلاف کوئی بات سُن کر آرام سے نہیں بیٹھ سکتا۔اور بے دینوں سے جو دین پر تمسخر اڑاتے ہیں کنارہ کشی کرتا ہے اب دیکھو اس علامت سے بھی صرف احمد یہ جماعت ہی ایمان پر قائم ثابت ہوگی آج کل عموماً مسلمانوں میں اور خصوصاً انگریزی خوانوں میں جو گندی ہو ا مادیت اور دین سے بے رغبتی کی چلی ہوئی ہے یہ کوئی منفی بات نہیں مگر احمدی جماعت کے اس طبقہ میں بھی ایمانی غیرت اور بدصحبت سے عموماً نفرت پائی جائے گی۔کوئی سچا احمدی دین کے خلاف بات سن کر یا دیکھ کر خاموش نہیں رہے گا بلکہ تم دیکھو گے کہ وہ اپنے قول سے یا اپنے فعل سے اپنی نفرت کا اظہار کرنے سے نہیں رکے گا اور اس صحبت سے پر ہیز کرے گا جس میں دین کی خفت ہوتی ہو یا اُس پر ہنسی اڑائی جاتی ہو۔یہ بات 203