تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 177 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 177

اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جدو جہد اب میں ان اجتماعی تبلیغی کوششوں کا کچھ مختصر ساذ کر کرتا ہوں جو حضرت مرزا صاحب اور آپ کے خلفاء کی طرف سے اشاعتِ اسلام کے بارے میں کی گئیں اور کی جارہی ہیں مگر پہلے یہ بتادینا ضروری ہے کہ اگر چہ ہماری جماعت کی تعداد اس وقت کئی لاکھ سمجھی جاتی ہے لیکن دراصل با قاعدہ اعانت کرنے والوں اور چندہ دینے والے منظم حصہ کی تعداد غالباً ستر اسی ہزار سے زیادہ نہیں اور پھر ہماری جماعت میں عموماً غریب لوگ زیادہ ہیں۔متمول لوگ ان سے کم اور امیر بہت ہی کم ہیں اور یہ غربت اور کمزوری بھی اس جماعت کے برحق ہونے کی علامت ہے۔کیونکہ خدائی سلسلوں میں شروع شروع میں عموما غریب اور کمزور لوگ ہی داخل ہوا کرتے ہیں چنانچہ دیکھ لو حضرت نوع کے متبعین کے متعلق مخالفین یہی کہتے رہے کہ آرَاذِ لُنَا بَادِئَ الرأى ( سورۃ ھود ) یعنی یہ لوگ جو نوع کے متبع ہوئے ہیں بالکل غریب اور کمزور لوگ ہیں۔ایسا ہی ہرقل عظیم روم کے سوال کرنے پر کہ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کمزور اور غریب لوگ مانتے ہیں یا بڑے اور امیر لوگ؟ ابوسفیان نے یہی جواب دیا کہ بَلْ ضُعَفَائهُمْ ( بخاری ) یعنی اُسے غریب اور کمزور لوگ ہی مانتے ہیں۔غرض عنت اللہ یہی ہے کہ ابتداء الہی سلسلوں میں کمزور لوگ ہی زیادہ داخل ہوتے ہیں اور بڑے لوگوں کی باری بعد میں آتی ہے۔حضرت مسیح ناصری بھی انجیل میں فرماتے ہیں کہ امیر لوگ غریبوں سے بہت بعد میں جنت میں داخل ہو نگے۔اس میں حکمت یہ ہے کہ اول تو ایمان اور اعمال صالح کئی قسم کی قربانیاں چاہتے ہیں جن کے لئے امراء بوجہ اپنے گردو پیش کے حالات کے جلدی تیار نہیں ہوتے۔اور اُن کا تکبر ، عیش پسندی ، آرام طلبی اور دین کی طرف سے بے توجہی الہی سلسلہ میں ان کے داخل ہونے کے راستہ میں بڑی روک ہو جاتی ہیں۔دوسرے خدا تعالی شروع شروع میں سلسلہ حقہ میں ضعفاء کے داخل ہونے سے دنیا کو یہ نظارہ بھی دکھانا چاہتا ہے کہ یہ سارا کاروبار میرا ہے اور میں ہی اسے چلا رہا ہوں ورنہ اس جماعت کی جو طاقت ہے وہ تو یہ ہے کہ صرف معدودے چند غریب اور کمزور لوگ اس میں داخل ہیں مگر جب یہی قلیل اور کمزورسی 177