تبلیغِ ہدایت — Page 178
جماعت دنیا میں وہ کام کر گذرتی ہے جو بڑی بڑی طاقتور اور امیر جماعتیں نہیں کر سکتی تھیں تو پھر دنیا کے لئے یہ ایک خاص نشان ہوتا ہے غرض ہماری قوم یعنی جماعت احمد یہ عموماً غریب لوگوں کی ایک چھوٹی سی جماعت ہے۔اس تمہیدی نوٹ کے بعد میں نہایت مختصر طور پر ان تبلیغی کوششوں کا ذکر کرتا ہوں جو حضرت مرزا صاحب اور آپ کے خلفاء کی طرف سے اشاعت اسلام کے لئے کی گئیں اور کی جارہی ہیں۔سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جب آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوا کہ آپ مامور کئے گئے ہیں تو آپ نے ایک اشتہار اردو اور انگریزی میں بیس ہزار کی تعداد میں چھپوا کر ہندوستان اور یورپ اور امریکہ وغیرہ میں کثرت کے ساتھ تقسیم کیا اور اس میں بیان فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے خدمتِ اسلام کے لئے مامور کیا ہے۔پس جس کسی کو اسلام کے متعلق کوئی شبہ ہو یا وہ کوئی اعتراض رکھتا ہو تو میرے سامنے پیش کرے میں اُس کی تسلی کراؤں گا اور غیبی نشانات بھی دکھائے جاویں گے اس کے بعد آپ نے اپنا کام شروع فرما یا اور پھر جس طرح مختلف قوموں کے ساتھ آپ کے مقابلے ہوئے اس کا ایک نہایت مختصر سا خا کہ اوپر گذر چکا ہے آپ کی ساری عمر جہاد کی صف اول میں ہی گزرگئی اور مخالف بھی اس بات کو مانتے ہیں کہ ایسا کوئی وقت نہیں آیا کہ آپ نے ایک ماندہ سپاہی کی طرح ہتھیار اتار کر کچھ عرصہ آرام کیا ہو۔بسا اوقات فرماتے تھے کہ یہ جو کھانے پینے اور پیشاب پاخانے وغیرہ میں وقت صرف ہوتا ہے اس کا بھی ہمیں افسوس ہی ہوتا ہے کہ عمر محدود ہے یہ وقت بھی دین کی خدمت میں صرف ہو جاتا تو بہتر تھا۔جس وقت آپ کی وفات ہوئی اس وقت بھی آپ ایک عظیم الشان تبلیغی رسالہ تصنیف فرمارہے تھے آپ جسے مکمل نہیں کر سکے یعنی لکھتے لکھتے ہی پیغام الہی آگیا اور آپ اپنے محبوب حقیقی سے جاملے اس رسالہ کے غیر مکمل رہنے میں بھی یہ خدائی مصلحت معلوم ہوتی ہے کہ تا دنیا پر یہ ظاہر ہو کہ آپ کی وفات عین حالتِ جنگ میں واقع ہوئی ہے۔اگر آپ اسے مکمل کرنے کے بعد اور کوئی دوسری تصنیف شروع کرنے سے پہلے فوت ہوتے تو پھر بھی حالت جنگ میں ہی سمجھے جاتے لیکن موجودہ صورت زیادہ واضح ہونے کی وجہ سے 178