تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 176 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 176

سپر بجوال جرنل بوسٹن لکھتا ہے :- یہ کتاب بنی نوع انسان کے لئے ایک خالص بشارت ہے۔“ تھیا صوفیکل تک نوٹس میں یہ الفاظ درج ہیں :- یہ کتاب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مذہب کی بہترین اور سب سے زیادہ دلکش تصویر ہے۔" انڈین ریویو لکھتا ہے:۔یہ کتاب بہت دلچسپ اور مسرت بخش ہے۔اس کے خیالات روشن، جامع اور پراز حکمت ہیں۔پڑھنے والے کے منہ سے بے اختیار اس کی تعریف نکلتی ہے۔یہ کتاب یقینا اس قابل ہے کہ ہر اس شخص کے ہاتھ میں ہو جومحمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مذہب کا مطالعہ کرنا چاہتا ہے“۔مسلم ریویو لکھتا ہے :- ’ اس کتاب کا مطالعہ کرنے والا اس میں بہت سے بچے۔عمیق اصلی اور رُوح افزاء خیالات پائے گا جو مسلم و غیر مسلم دونوں کی دلچسپی کا موجب ہوں گے۔ہم بڑے زور کے ساتھ اس کتاب کی سفارش کرتے ہیں۔“ ( یہ آراء انگریزی سے ترجمہ شدہ ہیں اور صرف نمونہ کے طور پر درج کی گئی ہیں۔ورنہ اس قسم کی آراء کی اصل تعداد بہت زیادہ ہے۔تفصیل کے لئے دیکھور یو یو آف ریلیجنز جولائی ۱۹۱۲ء) خاکسار راقم الحروف نے بھی جب اپنے ایک یورپین مہربان مسٹر جی اے واد نزایم۔اے کو جو گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی کے سینئیر پروفیسر تھے اور میرے ٹیوٹر بھی تھے یہ کتاب بھجوائی تو انہوں نے مجھے جواب میں لکھا کہ میں نے نہایت شوق اور دلچسپی کے ساتھ اس کتاب کو پڑھا ہے اور میں یقین کرتا ہوں کہ اس کتاب کے مطالعہ سے عیسائی دنیا میں جو اعتراضات اسلام کے متعلق پھیلے ہوئے ہیں وہ بہت حد تک دُور ہو جائیں گے۔176