تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 160 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 160

قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت اس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے جس بات کو کہے کہ کروں گا میں یہ ضرور ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے خدا جیسی لطیف اور وراء الوراء ہستی کے متعلق یہ سمجھنا کہ وہ ظاہری حواس سے محسوس کی جا سکتی ہے ایک اہلہانہ بات ہے۔قرآن شریف فرماتا ہے۔لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكَ الْأَبْصَارَ وَهُوَاللَّطِيفُ الْخَبِيرُ - ( سورة انعام ع ) یعنی خدا چونکہ لطیف ہے اس لئے حواس ظاہری اس تک نہیں پہنچ سکتے۔مگر وہ خبیر بھی ہے اور جانتا ہے کہ اس تک پہنچے بغیر بندہ روحانی طور پر زندہ نہیں رہ سکتا اور اس کا ایمان مکمل ہونا تو در کنار قائم بھی نہیں ہوسکتا۔اس لئے وہ خود حواس انسانی کی طرف نزول کر کے اپنے آپ کو محسوس کرواتا ہے، یعنی وہ ارسال رسل اور الہام اور قدرت نمائیوں سے اپنا چہرہ دکھاتا ہے تا انسانی ایمان ہونا چاہئے کے شکی مقام سے نکل کر ہے کے یقینی مرتبہ تک پہنچ جائے۔(ہستی باری تعالیٰ کے متعلق مفصل بحث کے لئے خاکسار مصنف کی تصنیف ہمارا خدا ملاحظہ کی جائے۔) " " چنانچہ حضرت مرزا صاحب نے دنیا کو مخاطب کر کے کہا کہ آؤ میں تمہیں دکھاتا ہوں کہ خدا ہے اور وہ علیم ہے کیونکہ میں ایک بشر ہونے کی وجہ سے علم کامل نہیں رکھتا لیکن خدا مجھے کہتا ہے کہ یہ چیز یوں ہوگی اور پھر باوجود ہزاروں پردوں کے پیچھے غائب ہونے کے بالآخر وہ چیز اسی طرح ظاہر ہوتی ہے جس طرح خدا نے کہا تھا آؤ اور اس کا امتحان کر لو۔میں تمہیں دکھاتا ہوں کہ خدا ہے اور وہ قدیر ہے۔کیونکہ میں بوجہ انسان ہونے کے قدرت کا ملہ نہیں رکھتا لیکن خدا مجھے کہتا ہے کہ میں فلاں کلام اس اس طرح پر کروں گا اور وہ کام ایسا ہوتا ہے کہ انسانی طاقت سے اس طرح پر نہیں ہوسکتا مگر وہ اسی طرح ہو جاتا ہے۔آؤ اور اس کا امتحان کر لو۔میں تمہیں دکھاتا ہوں کہ خدا ہے اور وہ دُعاؤں کو سنتا ہے۔کیونکہ میں خدا سے ایسے کاموں کے متعلق دُعا مانگتا ہوں کہ وہ ظاہر میں انہونے ہوتے ہیں مگر خدا میری دُعا سے اُن کاموں کو پورا کر دیتا ہے آؤ اور اس کا امتحان کرلو۔160