تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 159 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 159

تصنیف اسی گروہ کے رد میں ہے۔کیونکہ غور کرو تو جن دلائل سے آپ نے دوسرے مذاہب والوں کو زیر کیا وہ سب دلائل اس مذہب کی بھی خاک اڑا رہے ہیں خصوصاً روحانی میدان کے براہین تو اس مذہب کے خلاف گویا ایک سورج چڑھا دیتے ہیں۔مثلاً آتھم کی موت۔مارٹن کلارک کی ناکامی۔ڈوئی کی ہلاکت اور پھر اندر من کا فرار لیکھرام کا قتل۔اچھر چند وغیرہ کی بربادی وغیرہ جہاں مسیحیت اور آریہ مذہب کی جڑ کاٹ رہے ہیں وہاں دہریت اور دیو سماج کی گردن پر بھی ایک تیز تبر کا کام دیتے ہیں۔دراصل جب آپ نے نشان دیکھنے کے لئے مختلف مذاہب والوں کو دعوت دی تھی تو اُس وقت دیو سماج کو بھی خاص طور پر بلایا تھا مگر یہ بڑی پکی بات ہے کہ دہریہ کا دل کمزور ہوتا ہے۔چنانچہ اُن میں سے کوئی شخص سامنے نہیں آیا۔دراصل جو شخص خدا کو مانتا ہے۔خواہ وہ غلط طور پر ہی مانے لیکن پھر بھی اس کے دل کو ایک گونہ سہارا ہوتا ہے لیکن دہر یہ کا دل ہمیشہ کا نپتا رہتا ہے اور اسے کبھی بھی اطمینان اور شلج قلب حاصل نہیں ہوتا اس لئے وہ عموماً مقابلہ میں بز دل نکلتا ہے۔چنانچہ کبھی کسی دہر یہ دیو سماجی کو جرات نہیں ہوئی کہ حضرت مرزا صاحب کے سامنے آتا۔آپ نے ان لوگوں کا دو طرح مقابلہ کیا ایک تو یہ ثابت کیا کہ عقل صحیحہ کا صحیح استعمال ہر غور کرنے والے کو ایک صانع کی ہستی کا پتہ بتا رہا ہے کیونکہ یہ عالم مادی مع اپنی بار یک در بار یک حکمتوں اور لاثانی نظام کے ایک کامل خالق پر دال ہے اور اس بے نظیر کارخانہ کو بغیر صانع کے ماننا صریحاً عقل کے خلاف ہے۔پس ہم مجبور ہیں کہ اس بات کو قبول کریں کہ اس عالم کا کوئی خالق و مالک ہونا چاہئے۔اور جب ایک حق کا متلاشی ” ہونا چاہیئے“ کے مقام تک پہنچتا ہے تو پھر اس کے لئے الہام اور قدرت نمائی کے نشانات سے فائدہ اٹھانے کا دروازہ کھولا جاتا ہے جو اسے ” ہے" کے مقام کی طرف اٹھا کر لے جاتے ہیں۔یعنی ہونا چاہنے تک پہنچنا تو خدا کے فضل کے ماتحت انسان کا کام ہے اور ” ہے“ تک پہنچانا خدا کا فعل ہے جو وہ اپنی خاص قدرت نمائیوں اور الہام سے سرانجام دیتا ہے حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں 159