تبلیغِ ہدایت

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 158 of 275

تبلیغِ ہدایت — Page 158

رہے کہ کوئی خدا ہونا چاہئے بلکہ اس حد تک پہنچ جائے کہ خدا ہے اور انسان اس کے ساتھ ذاتی تعلق قائم کر سکے۔”ہونا چاہئے“ کا مقام تو صرف ایک خیالی صنم کو پیش کرتا ہے مگر حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں بن دیکھے کس طرح کسی مہ رُخ پہ آئے دل کیونکر کوئی خیالی صنم سے لگائے دل اور نیز آپ نے اپنے الہاموں اور ان خدائی قدرت نمائیوں کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اور اس زمانہ میں خود آپ کے ذریعہ خدا نے دکھا ئیں بطور ایک قطعی دلیل کے پیش کیا اور منکروں کو امتحان اور مشاہدہ کے لئے بلایا۔مگر کوئی شخص سامنے نہ آیا اور اسلام کا جھنڈا بلند لہراتا رہا۔دیو سماج سے مقابلہ پانچواں مذہب دہریت اور دیو سماج کا مذہب تھا۔یہ مذہب بھی آج کل اندر ہی اندراکثر دلوں کو کھا گیا تھا۔مگر بعض نے جرأت کر کے اس کا اظہار کر دیا اور ایک الگ پارٹی قائم کر لی لیکن اکثر نے اپنے شبہات دل میں چھپائے رکھے۔مگر غور سے دیکھا جائے تو اکثر لوگوں کے ایمان کے شہتیر کو یہ کیڑا پوری طرح کھا چکا ہے ہندوؤں میں ، عیسائیوں میں بلکہ خود مسلمانوں میں اور دوسری اقوام میں کثرت انہیں لوگوں کی ہے جن کے ایمان کو یہ گھن لگ چکا ہے اور اس زمانہ کی زہریلی ہوائیں اور علوم جدیدہ کی مہلک تاثیرات اور مادیت کی ظلمتیں ان کے مذہب و دین کا خاتمہ کر چکی ہیں۔یہ لوگ صرف رسمی اور قومی طور پر اپنے مذہب کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور اگر ان کو اپنے مذہب کی کوئی غیرت ہے تو وہ بھی محض قومی طور پر ہے مذہبا نہیں۔ان مخفی دہریوں کے علاوہ ظاہراً بھی ایک گروہ ایسا موجود ہے جو خدا کا انکار کرتا ہے۔یہ گروہ ہندوؤں میں نمایاں طور پر موجود ہے اور دیو سماج کے نام سے مشہور ہے اس گروہ کا حضرت مرزا صاحب کے ساتھ کوئی باقاعدہ مقابلہ نہیں ہوا۔مگر ویسے دیکھو تو گویا آپ کی ساری عمر اسی گروہ کے مقابلہ میں گذری اور آپ کی ہر 158